سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 279 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 279

۲۷۹ آیات و معجزات کے متعلق ایسے پختہ اصول بیان فرمائے جن سے اس اہم مگر پیچدار مسئلہ پر گویا ایک چمکتا ہوا سورج طلوع کر آیا۔آپ نے فرمایا کہ معجزہ برحق ہے بلکہ ایمان کو زندہ اور تروتازہ رکھنے کے لئے معجزہ ایک ضروری چیز ہے کیونکہ یہ معجزہ ہی ہے جو انسان کو عقلی دلائل کی دور آمیز فضا سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے مگر اس کے لئے خدا کی طرف سے چند شرائط ضروری اور لازمی کر دی گئی ہیں جنہیں نظر انداز کر کے اصلی اور فرضی معجزہ میں تمیز باقی نہیں رہتی۔سب سے پہلے تو آپ نے یہ فرمایا کہ معجزہ کو سمجھنے کے لئے ایمان کی حقیقت کا سمجھنا ضروری ہے۔آپ نے تشریح فرمائی کہ ایمان کی ابتداء ہمیشہ تاریکی اور نور کی سرحد سے شروع ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ منشاء ہے کہ ایمان کے ابتدائی مراحل میں ایک خفیف تاریکی کا پردہ حائل رہے اور بالکل روشنی کی صورت نہ پیدا ہو۔اگر ایمان کی ابتداء کامل روشنی سے ہو تو ایمان کی غرض و غایت باطل چلی جاتی ہے اور ایمان لانا موجب ثواب نہیں رہتا کیونکہ ایک بدیہی اور بین چیز کو ماناکسی طرح قابل تعریف نہیں سمجھا جاسکتا۔مثلاً کوئی شخص اس بات پر تعریف اور انعام کا مستحق نہیں بن سکتا کہ اس نے دن چڑھنے پر سورج کو دیکھ لیا ہے یا اسے چودھویں رات کا چاند نظر آ گیا ہے پس ایمان کی ابتدائی حالت میں ایک پہلو تاریکی کا ہونا ضروری ہے مگر یہ بادل کا سا سایہ اس حد تک نہیں ہونا چاہئے کہ ایک عقلمند اور غیر متعصب انسان کو خواہ نخواہ تاریکی کی طرف لے جاوے بلکہ صرف اس حد تک ہونا چاہئے کہ اندھے اور بینا اور عقلمند اور بے وقوف میں تمیز پیدا کر دے اور دیکھنے والے کو تعریف اور انعام کا مستحق بنا دے۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ اگر ایک نبی مبعوث ہوتے ہی اس قسم کے معجزات دکھانا شروع کر دے کہ قبروں پر جا کر آواز دے اور اس آواز پر قبروں کے مردے نکل کر باہر آ جائیں۔اور اپنے دشمنوں کی طرف اشارہ کرے اور وہ مرکر زمین میں جاگریں۔اور اگر شخص اس پر حملہ کرنے آوے تو وہ لوگوں کے دیکھتے دیکھتے آسمان پر چڑھ جاوے وغیرہ وغیرہ تو ظاہر ہے کہ اس قسم کے حالات میں کوئی شخص بھی ایسے نبی کا منکر نہیں رہ سکتا اور ایمان کا معاملہ ایک بے سود