سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 278 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 278

۲۷۸ وو سیر معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا بلکہ وہ نہایت اعلیٰ درجہ کا کشف تھا جس کو درحقیقت بیداری کہنا چاہئے۔ایسے کشف کی حالت میں انسان ایک نوری جسم کے ساتھ حسب استعداد نفس ناطقہ اپنے کے آسمانوں کی سیر کر سکتا ہے۔پس چونکہ آنحضرت ﷺ کے نفس ناطقہ کی اعلیٰ درجہ کی استعداد تھی اور انتہائی نقطہ تک پہنچی ہوئی تھی اس لئے وہ اپنی معراجی سیر میں معمورۂ عالم کے انتہائی نقطہ تک جو عرش عظیم سے تعبیر کیا جاتا ہے پہنچ گئے۔سو در حقیقت یہ سیر کشفی تھا جو بیداری سے اشد درجہ پر مشابہ ہے بلکہ ایک قسم کی بیداری ہی ہے۔میں اس کا نام خواب ہر گز نہیں رکھتا اور نہ کشف کے ادنی درجوں میں سے اس کو سمجھتا ہوں بلکہ یہ کشف کا بزرگ ترین مقام ہے جو درحقیقت بیداری بلکہ اس کثیف بیداری سے یہ حالت زیادہ اصفی اور اجلی ہوتی ہے اور اس قسم کے کشفوں میں مؤلف خود صاحب تجربہ ہے اس جگہ زیادہ لکھنے کی گنجائش نہیں۔لے معجزات کی حقیقت : ایک اور لطیف انکشاف جو خدائے علیم نے حضرت مسیح موعود کے ذریعہ ظاہر فرمایا وہ معجزات کے متعلق ہے۔اس بارے میں مسلمانوں کے عقائد اور خیالات میں ایسی ایسی فضول باتیں داخل ہوگئی تھیں کہ انہیں سن کر نہ صرف شرم آتی ہے بلکہ ان سے دین اور ایمان کی غرض و غایت پر ہی پانی پھر جاتا ہے۔مسلمانوں نے مختلف نبیوں اور ولیوں کی طرف ایسے ایسے معجزات منسوب کر رکھے تھے اور کر رکھے ہیں جن کا کوئی ثبوت قرآن شریف یا حدیث یا کتب سابقه یا تاریخ میں نظر نہیں آتا اور بعض صورتوں میں استعارہ اور مجاز والے کلام کو حقیقت پر محمول کر کے فرضی معجزوں کا وجود گھڑ لیا گیا ہے۔حضرت مسیح موعود نے اس بارے میں نہایت لطیف بحث فرمائی اور جہاں ایک طرف معجزات کے وجود کو برحق قرار دیا وہاں دوسری طرف ان قصوں اور کہانیوں کو ردی کی طرح پھینک دیا جو بعد کے خوش عقیدہ لوگوں کے تخیل نے اپنے پاس سے بنا لئے تھے آپ نے ے ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۲۶ حاشیه