سلسلہ احمدیہ — Page 18
۱۸ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے اے یعنی ایک وقت آنے والا ہے کہ دنیا میں تجھے اتنی قبولیت حاصل ہو جائے گی کہ بڑے بڑے بادشاہ تیرے حلقہ غلامی میں داخل ہو کر تیرے متبرک کپڑوں کو اپنے سر آنکھوں سے لگائیں گے اور انہیں زیب تن کر کے ان سے برکت حاصل کریں گے۔یہ الہام اس وقت کا ہے جبکہ آپ بالکل گوشتہ گمنامی میں پڑے ہوئے تھے اور ابھی مجددیت اور ماموریت کا بھی دعویٰ نہیں تھا اور کوئی شخص آپ کو نہیں جانتا تھا۔مگر آئندہ آنے والی نسلیں دیکھیں گی کہ خدا تعالیٰ اپنے وعدے کو کس طرح پورا کرتا ہے اس الہام میں یہ بھی اشارہ ہے کہ احمدیت میں بادشاہوں کے داخل ہونے کا زمانہ ایسے وقت تک آ جائے گا کہ ابھی آپ کے استعمال شدہ کپڑے ( جو زیادہ دیر تک ٹھہر نے والی چیز نہیں ) دنیا میں موجود ہوں گے۔حضرت مسیح موعود نے یہ بھی لکھا ہے کہ عالم کشف میں مجھے یہ بادشاہ دکھائے گئے جو تعداد میں سات تھے اور گھوڑوں پر سوار تھے۔حضرت مسیح موعود نے سات کے عدد اور گھوڑوں پر سوار ہونے کے کی تشریح نہیں فرمائی مگر میں خیال کرتا ہوں کہ سات کے عدد میں کثرت اور تکمیل کی طرف اشارہ ہے یا یہ بھی ممکن ہے کہ یہ لفظ ہفت اقلیم کے محاورہ کی بناء پر استعمال کیا گیا ہو اور گھوڑوں کی سواری سے یہ مراد معلوم ہوتی ہے کہ یہ بادشاہ یونہی نام کے بادشاہ نہیں ہون گے بلکہ حقیقی حکمران ہوں گے اور ان کے ہاتھوں میں حکومت کی عنان ہوگی۔کیونکہ عالم رؤیا میں گھوڑے کی سواری سے حکومت مراد ہوتی ہے۔واللہ اعلم۔اسی طرح براہین احمدیہ میں اور بھی بہت سے الہامات درج ہیں جن میں سے کئی پورے ہو چکے ہیں اور کئی پورے ہونے والے ہیں۔ماموریت کا پہلا الہام:۔ابھی براہین احمدیہ کی تصنیف جس کے چار حصے۱۸۸۰ء تا۱۸۸۴ء میں شائع ہوئے مکمل نہیں ہوئی تھی کہ آپ کو خدا کی طرف سے مارچ ۱۸۸۲ء میں وہ تاریخی الہام ہوا جو آپ کی ماموریت کی بنیاد تھا۔اس الہام میں خدا تعالیٰ نے آپ کو مخاطب ہو کر فرمایا :۔يَا أَحْمَدُ بَارَكَ اللهُ فِيكَ مَارَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى - الرَّحْمٰنُ عَلَّمَ لے براہین احمدیہ ہر چہار صص روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۲۲ حاشیه در حاشیه نمبر۳