سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 268 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 268

۲۶۸ ضرورت کے مطابق قرآن شریف کے نئے نئے معانی ظاہر ہو کر اسلام کی صداقت پر دلیل بنتے رہیں۔اس مضمون کو واضح کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود نے ایک نہایت لطیف مثال بھی بیان فرمائی اور وہ یہ کہ جس طرح یہ مادی عالم ہمیشہ سے ایک ہی چلا آیا ہے مگر اس کے مخفی خزانے غیر متناہی ہیں اور ان کا ظہور کسی ایک زمانہ کے ساتھ وابستہ نہیں رہا بلکہ ہر زمانہ کی ضرورت کے مطابق صحیفہ فطرت کے مخفی خزانے نئے سے نئے رنگ میں ظاہر ہوتے رہے ہیں۔اسی طرح قرآن شریف بھی جو ایک روحانی عالم ہے اپنے اندر غیر متناہی خزانے رکھتا ہے جن کا ظہور کسی ایک زمانہ کے ساتھ مخصوص نہیں۔مثلاً آدم کے وقت میں بھی یہی مادی دنیا تھی اور پھر موسیٰ کے وقت میں بھی یہی دنیا تھی اور پھر آنحضرت ﷺ کے وقت میں بھی یہی دنیا تھی اور اب موجودہ زمانہ میں بھی یہی دنیا ہے مگر باوجود اس کے اس مادی دنیا نے اپنے سارے مخفی خزانے ایک وقت میں باہر نکال کر نہیں رکھ دیئے بلکہ کچھ حقائق آج سے ہزاروں سال پہلے ظاہر ہو گئے تھے اور کچھ درمیانی زمانہ میں ظاہر ہوئے اور بہت سے اب موجودہ زمانہ میں ظاہر ہو رہے ہیں حالانکہ یہ صحیفہ فطرت پہلے بھی وہی تھا جواب ہے۔اسی طرح آپ نے لکھا کہ قرآن شریف گو بظاہر ایک چھوٹی سی کتاب ہے مگر اللہ کی حکیمانہ قدرت نے اسے ایک روحانی عالم کی صورت دی ہے اور یہ مقدر کیا ہے کہ ہر زمانہ کی ضرورت کے مطابق قرآن کے مخفی حقائق و معارف ظاہر ہوتے رہیں۔بلکہ جس طرح موجودہ زمانہ میں مادی عالم کے خزانوں کے اظہار کا خاص طور پر زور ہے اور دنیا اپنی گونا گوں مخفی طاقتوں کو باہر نکال نکال کر مخلوق کی خدمت میں لگا رہی ہے اسی طرح موجودہ زمانہ کے لئے یہ بھی مقدر تھا کہ اس میں قرآن کے روحانی خزانے بھی پورے زور اور کثرت کے ساتھ دنیا کے سامنے آجائیں تا کہ ان مادی طاقتوں کا مقابلہ ہو سکے جو مادی لوگوں کی غلطی اور کم نہی کی وجہ سے روحانی طاقتوں کے مقابلہ کے لئے استعمال میں لائی جارہی ہیں۔الغرض حضرت مسیح موعود نے اس خیال کو سختی کے ساتھ ردفرمایا کہ قرآن شریف کی تفسیر سابقہ معانی پر ختم ہو چکی ہے اور بڑے زور دار رنگ میں لکھا کہ صحیفہ فطرت کے خزانوں کی طرح قرآنی علوم بھی غیر محدود ہیں اور کبھی ختم نہیں ہوں گے مگر ان کا انکشاف ضرورت کے مطابق آہستہ آہستہ ہو گا۔