سلسلہ احمدیہ — Page 17
۱۷ یہ حال ہو رہا تھا کہ مغربی تہذیب و تمدن کی بظاہر خوشگوار ہوائیں جہاں جہاں سے بھی گزرتی تھیں دہریت اور مادیت کا بیج ہوتی جاتی تھیں اور یہ زہر بڑی سرعت کے ساتھ ہر قوم وملت میں سرایت کرتا جارہا تھا۔اس چوکور خطرے کو حضرت مسیح موعود کی تیز اور دور بین آنکھ نے دیکھا اور آپ کی اکیلی مگر بہادر روح اس مہیب خطرے کے مقابلہ کے لئے بے قرار ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی۔آپ کی سب سے پہلی تصنیف جو براہین احمدیہ کے نام سے موسوم ہے اور چار جلدوں میں ہے اسی مرکب حملہ کے جواب میں لکھی گئی تھی۔اس کتاب میں خصوصیت سے الہام کی ضرورت اور اس کی حقیقت۔اسلام کی صداقت اور قرآن کی فضیلت۔خدا تعالیٰ کی قدرت اور اس کے علم کی وسعت۔خدا کی خالقیت اور اس کی مالکیت پر نہایت لطیف اور سیر کن بحثیں ہیں اور ساتھ ہی اپنا ملہم ہونا ظاہر کر کے اپنے بہت سے الہامات درج کئے گئے ہیں جن میں سے بہت سے الہام آئندہ کے متعلق عظیم الشان پیشگوئیوں پر مشتمل ہیں۔غرض یہ اس پایہ کی کتاب ہے کہ متقین نے اسے بالا تفاق اس زمانہ میں اسلامی مدافعت کا شاہکار قرار دیا۔چنانچہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جو فرقہ اہلحدیث کے نامور لیڈر تھے اور بعد میں حضرت مسیح موعود کے خلاف سب سے پہلے کفر کا فتویٰ لگانے والے بنے انہوں نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں براہین احمدیہ پر ریویو کرتے ہوئے لکھا کہ:۔”ہماری رائے میں یہ کتاب اس زمانہ میں اور موجودہ حالت کی نظر سے ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں تالیف نہیں ہوئی۔اس کا مؤلف بھی اسلام کی مالی و جانی و قلمی ولسانی و حالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت ہی کم پائی گئی ہے۔“ 1 براہین احمدیہ کو حضرت مسیح موعود کی سب سے پہلی تصنیف ہونے کے علاوہ ایک یہ خصوصیت بھی حاصل ہے کہ اس میں آپ نے اپنے بہت سے ابتدائی الہامات جمع کر دیئے ہیں جن میں سے اکثر آپ کی آئندہ ترقیات کے متعلق ہیں چنانچہ انہی میں سے ایک الہام یہ بھی ہے کہ:۔ل اشاعة السنة جلدے نمبر ۶ بابت سال ۱۸۸۴ء