سلسلہ احمدیہ — Page 258
۲۵۸ سایہ اور اثر مراد ہے جو حسب ضرورت زمین پر نازل ہوتا ہے۔لے اس دنیا کی عمر اور خلق آدم:۔پانچویں اصلاح حضرت مسیح موعود نے یہ کی کہ لوگوں کے اس خیال کو رد کیا کہ گویا یہ دنیا صرف چھ سات ہزار سال سے ہے اور اس سے پہلے خدا نعوذ باللہ معطل تھا۔دراصل چونکہ عیسائیوں کا بائیل کی بناء پر یہ عقیدہ تھا کہ انسان کی پیدائش کا آغاز آدم سے ہوا ہے اور آدم کو پیدا ہوئے صرف چھ ہزار سال ہوئے ہیں اس لئے ان کے ساتھ اختلاط کی وجہ سے بعد کے مسلمانوں میں بھی غلطی سے یہی عقیدہ داخل ہو گیا مگر خود قرآن شریف نے یا آنحضرت ﷺ نے ایسی کوئی تعلیم نہیں دی تھی۔بہر حال حضرت مسیح موعود نے صراحت کے ساتھ اس عقیدے کو جھوٹا قرار دیا اور فرمایا کہ آدمی کی پیدائش سے دنیا کا آغاز مراد نہیں ہے بلکہ دنیا کا آغاز بہت قدیم سے ہے اور اس میں مخلوقات کے کئی دور آتے رہے ہیں جن میں سے موجودہ دور اس آخری آدم سے شروع ہوا ہے جس کی پیدائش پر چھ ہزار سال کا عرصہ گزرا ہے پس آدم کی پیدائش سے دنیا کے ایک دور کا آغاز مراد ہے نہ کہ دنیا کی پیدائش کا آغاز۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں:۔” ہم اس مسئلہ میں تو ریت کی پیروی نہیں کرتے کہ چھ سات ہزار سال سے ہی جب سے کہ آدم پیدا ہوا ہے اس دنیا کا آغاز ہوا ہے اور اس سے پہلے کچھ نہیں تھا اور گویا خدا معطل تھا اور نہ ہم اس بات کے مدعی ہیں کہ یہ تمام نسل جو اس وقت دنیا کے مختلف حصوں میں موجود ہے یہ اسی آخری آدم کی نسل ہے۔ہم تو اس آدم سے پہلے بھی نسل انسانی کے قائل ہیں جیسا کہ قرآن شریف کے ان الفاظ سے پت لگتا ہے کہ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً ، خلیفہ جانشین کو کہتے ہیں جس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ آدم سے پہلے بھی دنیا میں مخلوق موجود تھی پس امریکہ اور آسٹریلیا وغیرہ کے لوگوں کے متعلق ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کہ وہ اسی آخری آدم کی اولاد میں سے ہیں یا کہ کسی دوسرے آدم کی اولاد میں سے۔۲ لے فرشتوں کے متعلق بحث کے لئے دیکھو حضرت مسیح موعود کی تصنیف توضیح المرام اور آئینہ کمالات اسلام وغیرہ۔الحکم مورخه ۳۰ رمئی ۱۹۰۸ء صفحه ۵ کالم نمبر۲ ۳۰