سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 257 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 257

۲۵۷ خدا کی ایک مخفی مخلوق ہے مگر ان کے متعلق وہ عجیب و غریب خیالات جوان کی شکل وصورت وغیرہ کے متعلق رائج ہیں مثلاً یہ کہ وہ ایک پروں کے ساتھ اڑنے والی مخلوق ہے اور ان کے یہ یہ رنگ اور اتنے اتنے پر ہیں وغیر ذالک یہ درست نہیں ہیں بلکہ اس قسم کے الفاظ بطور استعارہ بیان ہوئے ہیں اور فرشتوں کی اصل شکل وصورت کا علم صرف خدا کو ہے البتہ قرآن شریف و حدیث سے صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ فرشتے خدا کی ایک مخفی مخلوق ہے جو نظام عالم کو چلانے کے لئے بطور اسباب کے ہیں یعنی جس طرح دنیا کے ظاہری نظام کو چلانے کے لئے خدا نے ظاہری اسباب مقرر کر رکھے ہیں مثلاً سورج اور چاند اور ستارے اور ہوا اور پانی اور زمین وغیرہ اور ان چیزوں کے خواص اور ان کی طاقتیں اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بعض مخفی اسباب بھی مقرر کئے ہیں جو فرشتوں کے نام سے موسوم ہیں اور ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اس نظام عالم کو چلا رہا ہے۔اسی طرح آپ نے یہ تشریح فرمائی کہ یہ جو فرشتوں کے نازل ہونے کا عقیدہ عام طور پر۔مسلمانوں کے اندر پایا جاتا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ کوئی فرشتہ خدا کا کلام لے کر نازل ہوتا ہے اور کوئی لوگوں کی روح قبض کرنے کے لئے نازل ہوتا ہے یہ فی الجملہ درست ہے مگر فرشتوں کے نزول سے یہ مراد نہیں کہ وہ اپنی مقررہ جگہ کو چھوڑ کر زمین پر آ جاتے ہیں اور وہ اس وقت ان کے وجود سے خالی ہو جاتی ہے بلکہ فرشتوں کے نزول سے یہ مراد ہے کہ فرشتے اپنی اپنی جگہ پر رہتے ہوئے اپنے اپنے دائرہ میں دنیا کی چیزوں پر مقررہ اثرات پیدا کرتے ہیں مثلاً جس فرشتے کا کام کلام الہی کا پہنچانا ہے وہ یوں نہیں کرتا کہ خدا کے الفاظ کو لے کر کبوتر کی طرح اڑتا ہواز مین پر پہنچ جاوے بلکہ وہ صرف یہ کرتا ہے کہ اپنی خداداد طاقت کو حرکت میں لا کر خدا کے کلام کو اس کے منزلِ مقصود تک پہنچا دیتا ہے۔اسی طرح جس فرشتے نے کسی انسان کی روح قبض کرنی ہو وہ یہ نہیں کرتا کہ اپنی جگہ کو چھوڑ کر زمین پر آوے اور مرنے والے کی روح نکال کر پھر واپس اڑ جائے بلکہ وہ اپنی جگہ پر رہتے ہوئے ہی سارا کام سرانجام دیتا ہے پس نزول سے خود فرشتوں کا جسمانی نزول مراد نہیں بلکہ ان کی خدا داد طاقتوں کا پر تو یا