سلسلہ احمدیہ — Page 16
۱۶ وفات ہونی تھی اسی دن آپ کو خدا کی طرف سے الہام ہوا کہ آج شام کے قریب آپ کے والد اس دنیا سے گزرجائیں گے۔آپ لکھتے ہیں کہ اس خبر سے مجھے والد کی جدائی کے طبعی غم کے علاوہ ایک آنِ واحد کے لئے یہ خیال بھی دل میں آیا کہ معاش کے اکثر وجوہ والد کی زندگی کے ساتھ وابستہ ہیں۔ان کے بعد نہ معلوم کیا ہو گا؟ یہ خیال دل میں گذرا ہی تھا کہ ایک نہایت پر جلال آواز میں دوسرا الہام ہوا کہ الیسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَہ۔یعنی کیا خدا اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں ہے؟ اس کے بعد سے آپ گویا خدا کی کفالت میں آگئے اور آپ لکھتے ہیں کہ خدا نے میری ایسی کفالت فرمائی کہ جو میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی۔پلک زندگی کا آغاز اور براہین احمدیہ کی تصنیف:۔۱۸۷۶ء تک جب کہ آپ کے والد صاحب کی وفات ہوئی آپ کی زندگی ایک بالکل پرائیویٹ رنگ رکھتی تھی۔مگر اس کے بعد آپ نے آہستہ آہستہ پبلک میں آنا شروع کیا۔یا زیادہ صحیح طور پر یوں کہنا چاہئے کہ خدائی تقدیر آپ کو دنیا کی اصلاح کے لئے زاویہ گمنامی سے نکال کر شہرت کے میدان کی طرف کھینچنے لگی۔آغاز اس تبدیلی کا بظاہر اس طرح ہوا کہ ان ایام میں پنڈت دیانند سرسوتی کی تحریک سے بیدار ہو کر ہندوؤں میں ایک جماعت آریہ سماج کے نام سے قائم ہوئی جس نے نہ صرف ہندوؤں کے لئے ایک نیا مذہبی فلسفہ پیش کیا بلکہ دوسرے مذاہب کے مقابلہ پر بھی ہندو قوم میں ایک جارحانہ روح پیدا کر دی۔دوسری طرف ہندوستان کے مسیحی پادریوں نے بھی جو دہلی کے غدر کے بعد سے مسلمانوں کے مذہبی جوش و خروش سے کسی قدر مرعوب ہو کر سہمے ہوئے تھے اب پھر سر اٹھانا شروع کیا اور حکومت کے سایہ میں ایک نہایت پر زور مشنری مہم شروع کر دی۔اور ویسے بھی اس زمانہ میں صلیبی مذہب ساری دنیا میں ایک طوفانِ عظیم کی طرح جوش مار رہا تھا۔تیسری طرف یہ زمانہ ہندوستان کی مشہور مذہبی تحریک بر ہمو سماج کے زور کا زمانہ تھا جس کا جدید مذہبی فلسفہ امن اور آشتی اور صلح کل پالیسی کے لباس میں مذہب کی عمومی روح کے لئے گویا ایک کاٹنے والی تلوار کا حکم رکھتا تھا اور چوتھی طرف اس زمانہ میں ساری دنیا کا