سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 242 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 242

۲۴۲ آنحضرت ﷺ کے بعد ہوگی تو بہر حال اس طرح آنحضرت ﷺ کے بعد ایک نبی کا وجود مان لیا گیا مگر آپ نے بتایا کہ جہاں آنحضرت ﷺ کی امت میں سے کسی فرد کا نبوت کے انعام کو پانا آپ کے لئے باعث عزت ہے وہاں ایک سابقہ نبی کا آپ کے بعد آپ کی امت کی اصلاح کے لئے دوبارہ مبعوث ہو کر آنا یقینا آپ کے لئے باعث عزت نہیں بلکہ بنک اور غیرت کا باعث ہے۔(۸) آپ نے عقلی طور پر بھی ثابت کیا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کے سلسلہ کا بند ہو جانا یہ معنے رکھتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت خدا کے انعاموں کو وسیع کرنے والی نہیں بلکہ تنگ کرنے والی ثابت ہوئی ہے حالانکہ آنحضرت ﷺ کا وہ مقام ہے کہ اس کے بعد خدائی انعاموں کا دروازہ زیادہ سے زیادہ وسیع ہوکر کھل جانا چاہئے۔الغرض حضرت مسیح موعود نے اس اہم مسئلہ کے مختلف پہلوؤں پر نہایت سیر کن بحث کر کے ثابت کیا که گو قرآن شریف آخری شریعت ہے جس کے بعد قیامت تک کوئی اور شریعت نہیں اور آنحضرت علی خاتم النبین ہیں جن کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں جو آپ کی غلامی کے جوے سے آزاد ہو کر آئے مگر مطلق نبوت کا دروازہ بند نہیں بلکہ کھلا ہے اور اس کے کھلا رہنے میں ہی اسلام کی عزت اور آنحضرت علی کی شان کی بلندی ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:۔یا درکھنا چاہئے کہ مجھ پر اور میری جماعت پر جو یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبین نہیں مانتے یہ ہم پر افتراء عظیم ہے۔ہم جس قوت یقین، معرفت اور بصیرت کے ساتھ آنحضرت ﷺ کو خاتم الانبیاء مانتے اور یقین کرتے ہیں اس کا لاکھواں حصہ بھی دوسرے لوگ نہیں مانتے ان کا ایسا ظرف ہی نہیں ہے وہ اس حقیقت اور راز کو جو خاتم الانبیاء کی ختم نبوت میں ہے سمجھتے ہی