سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 225 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 225

۲۲۵ لڑکے کو ورثہ دیا جائے یا یہ کہ صرف نرینہ اولا د کو ورثہ ملے اور لڑکیاں محروم رہیں بلکہ ساری اولا دکوورثہ کا حق عطا کیا ہے اور اس طرح دولت کی منصفانہ تقسیم کی بنیاد قائم کر دی ہے۔یہ جھوٹا اصول کہ ورثہ کے تقسیم ہو جانے سے خاندان کی حیثیت گر جاتی ہے دنیا میں بڑی تباہی اور بڑی بے انصافی کا باعث ہوا ہے اس لئے اسلام نے اسے شروع سے ہی تسلیم نہیں کیا اور ساری اولا دکو برابر حصہ دے کر انہیں زندگی کی کشمکش میں ایک لیول پر کھڑا کر دیا ہے۔اسلام نے سُود کو بھی ناجائز قرار دیا ہے کیونکہ اول تو اس سے انسانی اخلاق ہمدردی اور مواسات کو سخت صدمہ پہنچتا ہے۔دوسرے اس میں انسان کو اپنی طاقت سے بڑھ کر قرض اٹھانے کی جرات پیدا ہوتی ہے جو سخت مہلک ہے۔تیسرے اس کی وجہ سے افراد اور اقوام کے درمیان جنگ و جدال کا دروازہ کھلتا ہے۔پس اسلام نے سود کو منع کر کے صرف سادہ تجارت کی اجازت دی ہے اور سود لینے اور دینے والے ہر دو کو گناہ گار قرار دیا ہے۔بے شک موجودہ زمانہ میں سود کے جال کے وسیع ہو جانے کی وجہ سے یہ نظر آتا ہے کہ شاید سود کے بغیر گزارہ نہیں چل سکتا مگر یہ صرف نظر کا دھوکا ہے جو موجودہ زہریلے ماحول کی وجہ سے پیدا ہوا ہے ورنہ جب مسلمان نصف دنیا سے زائد حصہ پر حکمران تھے اس وقت سود کے بغیر گزارہ چلتا ہی تھا۔اسلام نے شراب کے استعمال کو بھی روکا ہے کیونکہ اس سے انسان کی اعلیٰ دماغی طاقتوں کو صدمہ پہنچتا ہے۔بے شک اس سے ایک عارضی تحریک اور چمک پیدا ہوتی ہے چنانچہ شراب کے بعض فوائد کو قرآن شریف نے بھی تسلیم کیا ہے مگر مستقل نتیجہ بہر حال ضرر رساں ہے اور اسکے استعمال کی کثرت سے انسان کی عقل پر بھی پردہ پڑ جاتا ہے تی کہ ایک مدہوش آدمی انسان کہلانے کا حقدار نہیں رہتا اور چونکہ شراب ان چیزوں میں سے ہے جن کا تھوڑا استعمال بڑے استعمال کی طرف کھینچتا ہے اور اس کی عادت کو اختیار کر کے ہر وقت یہ خطرہ رہتا ہے کہ انسان اس کی کثرت کی طرف نہ جھک جاوے اور درمیانی حد بندی کی کوئی ضمانت نہیں اس لئے اسلام نے شراب کے قلیل اور کثیر دونوں حصوں کو منع