سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 224 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 224

۲۲۴ قائم رکھا ہے۔مثلاً غیر قوموں کے ساتھ معاملہ کرنے کے متعلق قرآن شریف فرماتا ہے اوفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا ہے یعنی اے مسلمانو تمہیں چاہئے کہ اپنے تمام عہدوں کو پورا کیا کرو کیونکہ تمہیں اپنے عہدوں کے متعلق خدا کے سامنے جواب دہ ہونا پڑے گا۔پھر فرماتا ہے لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَنْ لَّا تَعْدِلُوا اِعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوى ہے یعنی کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم ان کے ساتھ انصاف کا طریق ترک کردو بلکہ تمہیں چاہئے کہ ہر حال میں دشمن کے ساتھ بھی انصاف کا معاملہ کرو کیونکہ یہی تقویٰ کا تقاضا ہے۔“ افراد کے حقوق کے متعلق اسلام نے یہ تعلیم دی ہے کہ سب سے پہلے تو اخوت اور مساوات کے اصول کو قائم کیا ہے یعنی حکم دیا ہے کہ سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور جہاں تک حقوق کا تعلق سے کسی شخص کو کسی دوسرے شخص پر فوقیت حاصل نہیں بلکہ جو شخص بھی اپنی ذاتی خوبیوں اور ذاتی کمالات سے آگے نکل جاوے وہ دوسروں کے لئے جائے ادب ہے پس اسلام میں حقوق کے معاملہ میں کوئی نسلی یا قومی یا خاندانی امتیاز نہیں بلکہ سب برابر ہیں۔اسی طرح اسلام میں ذات پات کا کوئی سوال نہیں اور نہ ہی مذہبی پیشوائی اور مذہبی تعلیم کے لئے کوئی خاص جماعت یا خاص طبقہ مقرر ہے بلکہ شخص کے لئے ہر میدان میں ترقی کا راستہ کھلا ہے۔مرد اور عورت کے درمیان بھی اسلام نے حقیقی انصاف قائم کیا ہے۔یعنی ایک طرف ان کے طبعی فرق کو تسلیم کیا ہے اور دوسری طرف حقوق کے معاملہ میں ان کو برابر رکھا ہے مگر چونکہ عورت میں بعض فطری کمزوریاں پائی جاتی ہیں اس لئے انتظامی لحاظ سے مرد کو عورت پر فوقیت دی ہے لیکن ساتھ ہی مرد کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ عورت کے ساتھ نرمی اور شفقت اور محبت کا معاملہ کرے۔اسی طرح اسلام نے عورت کے لئے ورثہ کا حق بھی تسلیم کیا ہے اور اسے اپنے نام پر جائیداد پیدا کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کا حق دیا ہے۔تقسیم ورثہ کے معاملہ میں اسلام نے اس گندے اصول کو تسلیم نہیں کیا کہ صرف بڑے بنی اسرائیل هم مانده: ۲