سلسلہ احمدیہ — Page 220
۲۲۰ تعلیم میں صرف عفو پر زور دیا گیا ہے جس کی یہ وجہ ہے کہ اس زمانہ میں ان کی قوموں کے حالات اس مخصوص تعلیم کے متقاضی تھے یعنی اگر کوئی قوم پست ہو کر گر گئی اور ان میں بزدلی اور دنائت پیدا ہوگئی اور غیرت کا جذ بہ مٹ گیا تو انہیں اوپر اٹھانے کی غرض سے انتقام پر زور دیا گیا اور عفو سے روک دیا گیا تاکہ ان کے اندر خود داری کا جذبہ اور عزت نفس کا احساس پیدا ہو اور اگر کوئی قوم سخت دل ہوگئی اور نرمی اور درگزر کے صفت کو کھو بیٹھی تو اس کے لئے انتقام کا دروازہ بند کر کے صرف عفو پر زور دیا گیا تا کہ اس کے اندر شفقت اور رافت کا جذبہ پیدا ہو۔مگر اسلام کی تعلیم چونکہ ساری قوموں اور سارے زمانوں کے واسطے تھی اس لئے اس میں اخلاق کی جڑ پر ہاتھ رکھ کر یہ اصولی ہدایت دی گئی کہ انتقام اور عفو دونوں ہی اپنی اپنی جگہ اچھی چیزیں ہیں اور انسانی اخلاق کی درستی کے لئے دونوں ضروری ہیں پس جہاں حالات اس بات کے متقاضی ہوں کہ مجرم سے انتقام لیا جائے وہاں انتقام لینا چاہئے اور جہاں عفو کرنا مناسب ہو اور اس کے نتیجہ میں اصلاح کی صورت پیدا ہوتی ہو تو وہاں عفو سے کام لینا چاہئے۔اسی طرح کئی دوسرے مسائل میں اسلام نے متوازی اور متقابل ہدایات دی ہیں جن میں یہی غرض مد نظر ہے کہ پیش آمدہ حالات کے ماتحت مناسب رستہ اختیار کیا جاسکے۔مگر اصولی اور اہم امور میں ایک واحد اور مشترک شریعت بیان کر کے اتحاد و اتصال کی صورت بھی قائم کر دی گئی ہے۔ایک اور فرق اسلامی شریعت اور سابقہ شریعتوں میں یہ ہے کہ سابقہ شریعتوں کے وقت چونکہ بنی نوع آدم کا علم ایک ابتدائی حالت میں تھا اس لئے اس وقت کی شریعتوں نے انسانی اعمال میں زیادہ تفصیل کے ساتھ دخل دیا ہے اور بعض چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھی شریعت کے دائرہ میں شامل کر لیا گیا ہے لیکن اسلامی شریعت میں اس طریق کو بدل کر صرف اہم باتوں کے بیان کر دینے پر اکتفا کی گئی ہے۔اور ایسی تفصیلات میں جن میں انسان خود اپنی عقل اور علم سے ایک اچھا رستہ تجویز کرسکتا ہے اسے آزاد ر ہنے دیا گیا ہے تا کہ اسے بلا وجہ تنگی محسوس نہ ہو اور اس کے دماغی نشو و نما کے لئے راستہ کھلا رہے۔مثلاً اکثر پرانی شریعتوں میں اس بات کے متعلق تفصیلی ہدایات دی گئی ہیں کہ عبادت کی جگہ کیسی