سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 215 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 215

۲۱۵ اور عرب کے دوسرے قبیلوں کو بھی مسلمانوں کے خلاف اکسا کر اپنے ساتھ ملالیا اور پھر سب نے مل کر تلوار کے زور سے اسلام کو مٹانا چاہا۔جب نوبت یہاں تک پہنچی تو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو اجازت عطا فرمائی کہ وہ خود حفاظتی کے طور پر ان کفار کا مقابلہ کریں جو آپ کے خلاف تلوار لے کر نکلے تھے چنانچہ آپ نے اپنی مٹھی بھر جماعت کو لے کر ان ظالموں کا مقابلہ کیا اور چونکہ آپ کے ساتھ حق و صداقت کی روشنی تھی اور خدا کی نصرت کا مخفی ہاتھ آپ کی تائید میں تھا اور آپ کے صحابہ میں ایمان کی برقی طاقت موجزن تھی اس لئے باوجود انتہائی بے سروسامانی اور قلت تعداد کے خدا نے آپ کو خارق عادت رنگ میں فتح دی اور ابھی آپ کو مدینہ میں آئے ہوئے صرف آٹھ سال ہوئے تھے کہ مکہ نے آپ کے لئے اپنے دروازے کھول دیئے۔اس وقت آپ چاہتے تو ایک فاتح کی حیثیت میں سب رؤساء مکہ کو نہ تیغ کر سکتے تھے اور وہ اپنی خون آشام کا رروائیوں کی وجہ سے اس سزا کے مستحق بھی تھے۔مگر آپ نے اس خدائی رحمت کا ثبوت دیا جو آپ کی بعثت کی محرک تھی اور اپنے بے گناہ صحابہ کے قاتلوں سے فرمایا کہ جاؤ میں تمہیں معاف کرتا ہوں۔یہ نسل انسانی کی تاریخ کا ایک ایسا سنہری ورق ہے جس کی نظیر کسی دوسری جگہ نہیں ملتی۔فتح مکہ کے بعد چونکہ عرب میں مخالفت کا زور ٹوٹ چکا تھا اور جو لوگ اسلام کو تلوار کے زور سے مٹانے کے لئے اٹھے تھے وہ سب مغلوب ہو چکے تھے اس لئے اسلام کی دلکش تعلیم کا اہل عرب پر ایسا مقناطیسی اثر ہوا کہ انہوں نے بہت تھوڑے عرصہ میں ہی شرک سے تو بہ کر کے اسلام کو قبول کر لیا اور جب فتح مکہ کے دو سال بعد ادھ یعنی ۶۳۲ء میں آنحضرت ﷺ کی وفات ہوئی تو اس وقت سارا عرب اسلام کی غلامی میں آچکا تھا۔اور ملک کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک اللہ اکبر کی آواز بلند تھی۔اس طرح خدا نے آنحضرت ﷺ کو وہ کامیابی عطا فرمائی جو دنیا کی تاریخ میں حقیقہ بے نظیر ہے اور آپ کی قوت روحانی کے اثر کے ماتحت عرب کے وحشی لوگوں نے اپنی زندگیوں میں ایسا حیرت انگیز تغیر پیدا کیا کہ تھوڑے ہی عرصہ میں وہ انسانیت کے ادنی ترین درجہ سے اٹھ کر