سلسلہ احمدیہ — Page 204
۲۰۴ ہو جاتا تھا کہ چار پائی کے سرہانی کی طرف کوئی دوسرا شخص بیٹھا ہے اور پائنتی کی طرف حضرت مسیح موعود ہیں مانگی چار پائی پر آپ ہیں اور بستر والی چارپائی پر آپ کا کوئی مرید بیٹھا ہے یا اونچی جگہ میں کوئی مرید ہے اور نیچی جگہ میں آپ ہیں۔مجلس کی اس صورت کی وجہ سے بسا اوقات ایک نو وار دکو دھوکا لگ جاتا تھا کہ حضرت مسیح موعود کون ہیں اور کہاں بیٹھے ہیں۔مگر یہ ایک کمال ہے جو غالباً صرف انبیاء کی جماعتوں میں ہی پایا جاتا ہے کہ اس بے تکلفی کے نتیجہ میں کسی قسم کی بے ادبی نہیں پیدا ہوتی تھی بلکہ ہر شخص کا دل محبت اور ادب و احترام کے انتہائی جذبات سے معمور رہتا تھا۔خادموں تک سے پوری بے تکلفی کا برتاؤ تھا۔مثلاً ناظرین یہ سن کر حیران ہوں گے کہ اوائل زمانہ میں کئی دفعہ ایسا اتفاق ہوتا تھا کہ حضرت مسیح موعود سفر کے خیال سے گھر سے نکلے اور ایک خادم اور ایک گھوڑ ا ساتھ تھا۔آپ نے اصرار کے ساتھ خادم کو گھوڑے پر سوار کرا دیا اور خود پیدل چلتے رہے یا خادم کے ساتھ باری مقرر کر لی کہ چند میل تک تم سوار ہو اور پھر چند میل تک میں سوار ہوں گا۔اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ سفر میں بالعموم خادم کو اچھا کھانا دیتے تھے اور خود معمولی کھانے پر اکتفا کرتے تھے۔ایک شخص نے جسے شروع کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود کے ساتھ خادم اور مصاحب کے طور پر سفر کرنے کا اتفاق ہوا تھا مجھ سے ذکر کیا کہ عموماً حضرت مسیح موعود مجھے ایک وقت کے کھانے کے لئے چار آنے کے پیسے دیتے تھے اور خود ایک آنہ کے کھانے پر گزارہ کرتے تھے۔یہ غالبا اس لئے تھا کہ آپ یہ خیال فرماتے ہوں گے کہ یہ شخص اس قدر سادہ غذا پر گزارہ نہیں کر سکتا جس پر کہ خود آپ کر سکتے ہیں۔گھر کے کام کاج میں بھی حضرت مسیح موعود کی طبیعت نہایت درجہ سادہ اور تکلفات سے آزاد تھی۔ضرورت کے موقعہ پر نہایت معمولی معمولی کام اپنے ہاتھ سے کر لیتے تھے اور کسی کام میں عار نہیں محسوس کرتے تھے مثلاً چار پائی یا بکس وغیرہ اٹھا کر ادھر ادھر رکھ دینایا بستر بچھا نایا لپیٹنا یا کسی مہمان کے لئے کھانے یا ناشتہ کے برتن لگا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا وغیرہ وغیرہ۔خاکسار کو یاد ہے کہ وبائی امراض کے ایام میں بسا اوقات حضرت مسیح موعود خود بھنگن کے سر پر کھڑے ہو کر نالیوں کی