سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 203 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 203

کھانا ہی کھاتے تھے بلکہ جو کھانا بھی میسر آتا آپ اسے خوشی کے ساتھ کھاتے اور عموماً سادہ غذا کو پسند فرماتے تھے۔اسی طرح جو لباس بھی گھر میں تیار کروا دیا جا تا یا باہر سے تحفہ آ جاتا آپ اسے خوشی کے ساتھ استعمال فرماتے تھے مگر سادہ لباس پسند تھا اور کسی قسم کے فیشن وغیرہ کا خیال تک نہ آتا تھا۔لباس کے معاملہ میں مجھے اس وقت ایک واقعہ یاد آ گیا ہے جو حاضرین کی دلچسپی کے لئے اس جگہ درج کرتا ہوں۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود کے خسر یعنی خاکسار مولف رسالہ ہذا کے نانا حضرت میر ناصر نواب صاحب نے اپنے ایک غریب رشتہ دار کو جسے کوٹ کی ضرورت تھی اپنا ایک استعمال شدہ کوٹ بھجوایا۔میر صاحب کے اس عزیز نے اس بات کو بہت برا منایا کہ مستعمل کوٹ بھیجا گیا ہے اور ناراضگی میں کوٹ واپس کر دیا۔جب خادم اس کوٹ کو واپس لا رہا تھا تو اتفاق سے اس پر حضرت مسیح موعود کی نظر پڑ گئی۔آپ نے اس سے حال دریافت فرمایا اور جب آپ کو یہ معلوم ہوا کہ کوٹ میر صاحب کو واپس جا رہا ہے تو حضرت مسیح موعود نے اس خادم سے یہ کوٹ لے لیا اور فرمایا کہ واپس کرنے سے میر صاحب کی دشکنی ہوگی تم مجھے دے جاؤ۔میں خود یہ کوٹ پہن لوں گا اور میر صاحب سے کہ دینا کہ کوٹ ہم نے اپنے لئے رکھ لیا ہے۔یہ ایک بہت معمولی سا گھر یلو واقعہ ہے مگر اس سے حضرت مسیح موعود کے اعلیٰ اخلاق اور بے تکلفانہ زندگی پر کتنی روشنی پڑتی ہے! ہندوستان کے پیروں اور سجادہ نشینوں میں یہ ایک عام مرض ہے کہ کوئی مرید پیر کے برابر ہوکر نہیں بیٹھ سکتا یعنی ہر مجلس میں پیر کے لئے ایک مخصوص مسند مقرر ہوتی ہے اور مریدوں کو اس سے ہٹ کر نچلی جگہ بیٹھنا پڑتا ہے بلکہ پیروں پر ہی حصر نہیں دنیا کے ہر طبقہ میں مجلسوں میں خاص مراتب ملحوظ رکھے جاتے ہیں اور کوئی شخص انہیں تو نہیں سکتا۔لیکن حضرت مسیح موعود کی مجلس میں قطعا کوئی امتیاز نہیں ہوتا تھا بلکہ آپ کی مجلس میں ہر طبقہ کے لوگ آپ کے ساتھ مل کر اس طرح ملے جلے بیٹھتے تھے کہ جیسے ایک خاندان کے افراد گھر میں مل کر بیٹھتے ہیں۔اور بسا اوقات اس بے تکلفانہ انداز کا یہ نتیجہ ہوتا تھا کہ حضرت مسیح موعود بظاہر ادنی جگہ پر بیٹھ جاتے تھے اور دوسرے لوگوں کو اچھی جگہ مل جاتی تھی مثلاً بیسیوں مرتبہ ایسا