سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 198 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 198

۱۹۸ سے عبادت الہی میں ایک بہترین نمونہ تھے۔تقویٰ اللہ اور اطاعت رسول: حضرت مسیح موعود کے تقویٰ و طہارت اور جذ بہ اطاعت رسول کے متعلق کچھ لکھنا میرے منصب اور میری طاقت سے باہر ہے۔صرف اس قدر اصولی اشارہ کافی ہے کہ حضرت مسیح موعود کو تقویٰ کی باریک در باریک راہوں پر نگاہ رہتی تھی اور ہر قدم اٹھاتے ہوئے آپ کی نظر اس جستجو میں گھومتی تھی کہ اس معاملہ میں خدا اور اس کے رسول کا کیا ارشاد ہے۔زندگی کی چھوٹی چھوٹی باتیں جس میں ایک عام انسان کو یہ خیال تک نہیں جاتا کہ اس معاملہ میں بھی کوئی شریعت کا حکم ہوگا ان میں بھی آپ کو ہر قدم پر قرآن وحدیث کا حکم مستحضر رہتا تھا اور آپ اس حکم کو رسم و عادت یا چٹی کے طور پر نہیں بلکہ ایک مقدس فرض کے طور پر رحمت کے احساس کے ساتھ بجا لاتے تھے۔میں بڑی باتوں کو دانستہ ترک کرتے ہوئے ایک نہایت معمولی واقعہ بیان کرتا ہوں جس سے اہل ذوق آپ کے اطاعت رسول کے جذبہ کا کسی قدر اندازہ کر سکتے ہیں۔گورداسپور میں جبکہ مولوی کرم دین جہلمی کی طرف سے آپ کے خلاف ایک فوجداری مقدمہ دائر تھا ایک گرمیوں کی رات میں جبکہ سخت گرمی تھی اور آپ اسی روز قادیان سے گورداسپور پہنچے تھے آپ کے لئے مکان کی کھلی چھت پر پلنگ بچھایا گیا۔اتفاق سے اس مکان کی چھت پر صرف معمولی منڈی تھی اور کوئی پردہ کی دیوار نہیں تھی۔جب حضرت مسیح موعود بستر پر جانے لگے تو یہ دیکھ کر کہ چھت پر کوئی پردہ کی دیوار نہیں ہے ناراضگی کے لہجہ میں خدام سے فرمایا کہ میرا بستر اس جگہ کیوں بچھایا گیا ہے کیا آپ لوگوں کو معلوم نہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ایسی چھت پر سونے سے منع فرمایا ہے۔“ اور چونکہ اس مکان میں کوئی اور مناسب صحن نہیں تھا آپ نے باوجود شدت گرمی کے کمرہ کے اندرسونا پسند کیا مگر اس کھلی چھت پر نہیں سوئے۔آپ کا یہ فعل اس خوف کی وجہ سے نہیں تھا کہ ایسی چھت پر سونا خطرہ کا باعث ہوتا ہے بلکہ اس خیال سے تھا کہ آنحضرت علی نے ایسا کرنے سے منع کیا ہے۔ایک اور موقعہ پر جب کہ آپ اپنے کمرہ میں بیٹھے تھے اور اس وقت دو تین باہر سے آئے