سلسلہ احمدیہ — Page 197
۱۹۷ حالت میں بستر سے اٹھنے کی طاقت نہیں ہوتی تھی تو پھر بھی وقت پر جاگ کر بستر میں ہی اس مقدس عبادت کو بجالاتے تھے۔جوانی کے عالم میں ایک دفعہ مسلسل آٹھ نو ماہ تک روزے رکھے اور آہستہ آہستہ خوراک کو اس قدر کم کر دیا کہ دن رات میں چند تو لہ سے زیادہ نہیں کھاتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ مجھے خدا کے فضل سے اپنے نفس پر اس قدر قدرت حاصل ہے کہ اگر کبھی فاقہ کرنا پڑے تو قبل اس کے مجھے ذرا بھی اضطراب پیدا ہو ایک موٹا تازہ شخص اپنی جان کھو بیٹھے۔بڑھاپے میں بھی جبکہ صحت کی خرابی اور عمر کے طبعی تقاضے اور کام کے بھاری بوجھ نے گویا جسمانی طاقتوں کو تو ڑ کر رکھ دیا تھا روزے کے ساتھ خاص محبت تھی اور بسا اوقات ایسا ہوتا تھا کہ سحری کھا کر روزہ رکھتے تھے اور دن کے دوران میں ضعف سے مغلوب ہو کر جبکہ قریبا غشی کی سی حالت ہونے لگتی تھی خدائی حکم کے ماتحت روزہ چھوڑ دیتے۔مگر جب دوسرا دن آتا تو پھر شوق عبادت میں روزہ رکھ لیتے۔زکوۃ آپ پر کبھی فرض نہیں ہوئی یعنی آپ کے پاس کبھی اس قدر رو پی جمع نہیں ہوا کہ آپ پر ز کوۃ فرض ہوتی بلکہ آپ نے اپنے محبوب آقا اور مخدوم نبی کی طرح جو بھی ملا اسے خدا کی راہ میں اور دین کی ضروریات میں بے دریغ خرچ کر دیا اور دنیا کے اموال سے اپنے ہاتھوں کو خالی رکھا اور مقدس بانی اسلام کی طرح اس اصول کو حرز جان بنایا کہ الفقر فخری یعنی فقر کی زندگی گزارنا میرے لئے فخر کا موجب ہے۔حج بھی آپ باوجود خواہش کے کبھی ادا نہیں کر سکے کیونکہ اسلام نے حج کے لئے جو شرطیں مقرر کی ہیں وہ آپ کو میسر نہیں تھیں یعنی اول تو آپ کے پاس کبھی بھی حج کے مصارف کے لئے کافی روپیہ جمع نہیں ہوا دوسرے ان خطر ناک فتووں کے پیش نظر جو اسلامی دنیا میں آپ کے خلاف لگ چکے تھے آپ کے لئے حج کا رستہ یقیناً پر امن نہیں تھا مگر خدا نے آپ کی اس خواہش کو بھی خالی جانے نہیں دیا چنانچہ آپ کی وفات کے بعد حضرت والدہ صاحبہ نے آپ کی خواہش کو اس طرح پورا فرما دیا کہ اپنے خرچ پر ایک شخص کو مکہ مکرمہ میں بھجوا کر آپ کی طرف سے حج کروا دیا۔غرض آپ ہر جہت