سلسلہ احمدیہ — Page 195
۱۹۵ اس حالت کا صحیح حیح نقشہ کھینچنے سے قاصر ہے جو ہر دیکھنے والے کو حضرت مسیح موعود کی زندگی میں نظر آتی تھی۔آپ کی زندگی گویا ایک مقابلہ کی دوڑ تھی جس کا ہر قدم اس احساس کے ماتحت اٹھایا جاتا ہے کہ اس قدم کے اچھا اُٹھ جانے پر اس مقابلہ کی ساری کامیابی یا نا کامی کا دارو مدار ہے۔بسا اوقات کام کے انہماک میں حضرت مسیح موعود کھانا اور سونا تک بھول جاتے تھے اور ایسے موقعوں پر آپ کو کھانے کے متعلق بار بار یاد کرا کے احساس پیدا کرانا پڑتا تھا۔کئی مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ تصنیف کے کام میں آپ نے ساری ساری رات خرچ کر دی اور ایک منٹ کے لئے بھی آرام نہیں کیا۔اس قسم کے واقعات شاذ کے طور پر نہیں تھے بلکہ کام کے زور کے ایام میں کثرت کے ساتھ پیش آتے رہتے تھے اور دیکھنے والے حیران ہوتے تھے کہ آپ کی خلقت میں کس پاک مٹی کا خمیر ہے کہ فرائض منصبی کی ادا ئیگی میں اپنے نفس کے ہر آرام کو فراموش کر رکھا ہے۔لیکن چونکہ آپ نے ہر جہت سے لوگوں کے لئے ایک پاک نمونہ بننا تھا اس لئے آپ کا یہ شغف اور یہ انہاک دوسروں کے حقوق کی ادائیگی میں دخل انداز نہیں ہوتا تھا اور آپ سب لوگوں کے حقوق کو ایک مذہبی فریضہ کے طور پر احسن صورت میں ادا فرماتے تھے بلکہ اپنے نفس کی قربانی میں بھی جب آپ یہ دیکھتے تھے کہ یہ قربانی اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ بشری لوازمات کے ماتحت خود کام کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہے تو آپ فورا چوکس ہو کر اپنے نفس کے حقوق کی طرف بھی توجہ فرماتے تھے اور اس طرح آپ نے اپنی زندگی کے ہر فعل کو ایک مقدس عبادت کا رنگ دے لیا تھا۔بہر حال آپ کی زندگی مصروفیت اور فرائض منصبی کی ادائیگی کے لحاظ سے ایک بے نظیر نمونہ پیش کرتی تھی اور آپ صحیح اور کامل معنوں میں معمور الاوقات تھے اور آپ کے متعلق خدا کا یہ الہام کہ:۔انت الشيخ المسيح الذي لا يضاع وقته۔یعنی تو وہ برگزیدہ مسیح ہے جس کا کوئی وقت بھی ضائع جانے والا نہیں کے تذکره صفحه ۳۱۸ مطبوعہ ۲۰۰۴ء