سلسلہ احمدیہ — Page 10
تربیت کے لئے مقرر کئے گئے جن کا نام فضل احمد تھا۔میں خیال کرتا ہوں کہ چونکہ میری تعلیم میں خدا تعالیٰ کے فضل کی ایک ابتدائی تخم ریزی تھی اس لئے ان استادوں کے نام کا پہلا لفظ بھی فضل ہی تھا۔مولوی صاحب موصوف جو ایک دیندار اور بزرگوار آدمی تھے وہ بہت توجہ اور محنت سے پڑھاتے رہے اور میں نے صرف کی بعض کتا ہیں اور کچھ قواعد نخوان سے پڑھے اور بعد اس کے جب میں سترہ یا اٹھارہ برس کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ان کا نام گل علی شاہ تھا۔ان کو بھی میرے والد صاحب نے نوکر رکھ کر قادیان میں پڑھانے کے لئے مقرر کیا تھا اور ان آخرالذکر مولوی صاحب سے میں نے نحو اور منطق اور حکمت وغیرہ علوم مروجہ کو جہاں تک خدا نے چاہا حاصل کیا اور بعض طبابت کی کتابیں میں نے اپنے والد صاحب سے پڑھیں اور وہ فن طبابت میں بڑے حاذق طبیب تھے۔اور ان دنوں میں مجھے کتابوں کے دیکھنے کی طرف اس قدر توجہ تھی کہ گویا میں دنیا میں نہ تھا۔لے شباب:۔حضرت مسیح موعود نے ابھی بچپن سے قدم باہر نکالا ہی تھا اور جوانی کا آغاز تھا کہ آپ کی شادی ہو گئی۔مشرقی طریق کے مطابق اس عمر کی شادی میں زیادہ تر والدین کے انتخاب کا دخل ہوتا ہے اور موجودہ صورت میں بھی یہی ہوا اور گو بحیثیت مجموعی مشرقی ممالک کی شادیاں مغربی ممالک کی شادیوں کی نسبت حقیقہ زیادہ کامیاب اور زیادہ خوشی کا باعث ہوتی ہیں مگر استثناء ہر جگہ چلتا ہے اور شاید موجودہ صورت میں خدا کا یہ بھی منشاء تھا کہ اس کے ہونے والے مسیح کی شادی خود اس کے اپنے انتخاب کے ماتحت ہو اس لئے یہ شادی کامیاب ثابت نہیں ہوئی۔آپ کی یہ زوجہ جن کا نام حرمت بی بی تھا آپ کے اپنے عزیزوں میں سے تھیں اور ان کے بطن سے دولڑ کے بھی پیدا ہوئے مگر چونکہ خاوند بیوی کے مزاج اور میلانات میں انتہائی درجہ کی دوری تھی یعنی حضرت مسیح موعود دینی امور میں غرق اور دنیا سے بیزار تھے اور بیوی دین کی طرف سے غافل اور دنیا میں منہمک تھیں اس لئے باوجود اس کے کہ ظاہری حقوق کے لحاظ سے حضرت مسیح موعود نے شوہری کا حق پوری طرح ادا کیا یہ رشتہ کامیاب ثابت نہیں ہوا اور ان دو بچوں کی ولادت کے بعد خاوند بیوی میں عملاً علیحدگی رہی اور بالآخر جدائی تک نوبت پہنچی۔کتاب البریہ مصنفہ بانی۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۷۹ تا ۱۸۱ حاشیہ