سلسلہ احمدیہ — Page 187
حضرت مسیح موعود کا حلیہ اور اخلاق و عادات حلیہ مبارک اور ذاتی خصائل :۔حضرت مسیح موعود کے سوانح کا حصہ ختم کرنے سے پہلے ایک مختصر نوٹ آپ کے حلیہ اور ذاتی اخلاق و عادات کے متعلق درج کرنا ضروری ہے۔سو جاننا چاہئے کہ جہاں تک آپ کے حلیہ کا تعلق ہے آپ ایک اعلیٰ درجہ کے مردانہ حسن کے مالک تھے اور فی الجملہ آپ کی شکل ایسی وجیہ اور دلکش تھی کہ دیکھنے والا اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا تھا۔آپ کا چہرہ کتابی تھا اور رنگ سفیدی مائل گندمی تھا اور خط و خال نہایت متناسب تھے۔سر کے بال بہت ملائم اور سیدھے تھے مگر بالوں کے آخری حصہ میں کسی قدر خوبصورت خم پڑتا تھا۔داڑھی گھند ار تھی مگر رخسار بالوں سے پاک تھے۔قد درمیانہ تھا اور جسم خوب سڈول اور متناسب تھا اور ہاتھ پاؤں بھرے بھرے اور ہڈی فراخ اور مضبوط تھی۔چلنے میں قدم بہت تیزی سے اٹھتا تھا مگر یہ تیزی ناگوار نہیں معلوم ہوتی تھی۔زبان بہت صاف تھی مگر کسی کسی لفظ میں کبھی کبھی خفیف می کنت پائی جاتی تھی جو صرف ایک چوکس آدمی ہی محسوس کر سکتا تھا۔پچھتر (۷۵) سال کی عمر میں وفات پائی مگر کمر میں خم نہیں آیا اور نہ ہی رفتار میں فرق پڑا۔دور کی نظر ابتداء سے کمزور تھی مگر پڑھنے کی نظر آخر تک اچھی رہی اور یوم وصال تک تصنیف کے کام میں مصروف رہے۔کہتے ہیں ابتداء میں جسم زیادہ ہلکا تھا مگر آخر عمر میں کسی قدر بھاری ہو گیا تھا جسے درمیانہ درجہ کا جسم کہا جاسکتا ہے۔آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے یا یونہی بلا ضرورت ادھر ادھر نظر اٹھانے کی عادت بالکل نہیں تھی بلکہ اکثر اوقات آنکھیں نیم بند اور نیچے کی طرف جھکی رہتی تھیں۔گفتگو کا انداز یہ تھا کہ ابتداء میں آہستہ آہستہ کلام شروع فرماتے تھے مگر پھر حسب حالات اور حسب تقاضائے وقت آواز بلند ہوتی جاتی تھی۔چہرہ کی جلد نرم تھی اور جذبات کا اثر فوراً ظاہر ہونے لگتا تھا۔لباس ہمیشہ پرانی ہندوستانی وضع کا پہنتے تھے یعنی عموم بند گلے کا کوٹ یا بہ۔دیسی کاٹ کا کرتہ یا قمیض اور معروف شرعی ساخت کا