سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 9 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 9

دعوئی کے لحاظ سے حضرت مسیح موعود کے نام سے یاد کروں گا بچپن سے ہی کسی قدر خلوت پسند اور سوچنے والی طبیعت رکھتے تھے اور دوسرے بچوں کے ساتھ مل کر زیادہ کھیلنے کودنے کی عادت نہیں تھی تاہم اعتدال کے ساتھ اور مناسب حد تک آپ ورزش اور تفریح میں بھی حصہ لیتے تھے چنانچہ روایات سے پتہ لگتا ہے کہ آپ نے بچپن میں تیرنا سکھا تھا اور کبھی کبھی قادیان کے کچے تالابوں میں تیرا کرتے تھے۔اسی طرح آپ نے اوائل عمر میں گھوڑے کی سواری بھی سیکھی تھی اور اس فن میں اچھے ماہر تھے کبھی کبھی غلیل سے شکار بھی کھیلا کرتے تھے۔مگر آپ کی زیادہ ورزش پیدل چلنا تھا جو آخری عمر تک قائم رہی۔آپ کئی کئی میل تک سیر کے لئے جایا کرتے تھے اور خوب تیز چلا کرتے تھے۔صحت کی درستی کے خیال سے کبھی کبھی موگریوں کی ورزش بھی کیا کرتے تھے اور حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ اسیح الثانی کی روایت ہے کہ میں نے ایک دفعہ آپ کو آخر عمر میں بھی موگریاں پھیر تے دیکھا ہے۔مگر یہ ساری باتیں صرف صحت کی درستی کی غرض سے تھیں ورنہ آپ نے کبھی بھی ان باتوں میں ایسے رنگ میں حصہ نہیں لیا جس سے انہماک کی صورت نظر آئے یا وقت ضائع ہو۔بلکہ ایام طفولیت میں بھی آپ کی طبیعت دینی امور کی طرف بہت راغب تھی چنانچہ بعض روایات سے پتہ لگتا ہے کہ آپ اپنے کھیل کود کے زمانہ میں بھی اپنے ساتھ کے بچوں سے کہا کرتے تھے کہ دعا کرو کہ خدا مجھے نماز کا شوق نصیب کرے اور دوسرے بچوں کو بھی نیکی کی نصیحت کیا کرتے تھے۔جب آپ تعلیم کی عمر کو پہنچے تو جیسا کہ اس زمانہ میں شرفاء میں دستور تھا آپ کے والد صاحب نے آپ کی تعلیم کے لئے بعض اسا تذہ کوگھر پر تعلیم دینے کے لئے مقررفرمایا۔مگر بہتر معلوم ہوتا ہے کہ وو آپ کے سوانح کا یہ حصہ خود آپ کے الفاظ میں بیان کیا جائے۔آپ تحریر فرماتے ہیں:۔میری تعلیم اس طرح ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خواں معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھا ئیں اس بزرگ کا نام فضل الہی تھا۔اور جب میری عمر قریباً دس برس کی ہوئی تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری