سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 159 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 159

۱۵۹ حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول بھی جو میر صاحب کے معالج تھے بہت گھبرا گئے۔اس پر حضرت مسیح موعود کو سخت قلق پیدا ہوا اور آپ نے ان کے لئے خصوصیت سے دعا فرمائی اور خدا سے عرض کیا کہ خواہ اصل مرض کچھ ہولیکن اگر اس وقت ان عوارض کے ساتھ ان کی وفات ہوگئی تو دشمن کو اعتراض کا موقعہ ہو گا کہ طاعون کی بیماری سے مکان کی حفاظت کا وعدہ غلط نکلا جس پر خدا نے آپ کی دعا کوسنا اور میر صاحب کو خارق عادت طور پر شفا عطا کی چنانچہ میر صاحب دو تین گھنٹے کے اندراٹھ کر کھیلنے کودنے لگ گئے اور بخار اور گلٹیوں کا نام ونشان نہ رہا ہے (۵) قادیان میں ریاست حیدر آباد دکن کا ایک لڑکا عبدالکریم پڑھتا تھا۔اسے ۱۹۰۶ء میں ایک دیوانے کتے نے کاٹ لیا اور بہت زخمی کیا۔اس پر عبدالکریم کو کسولی پہاڑ پر بھجوایا گیا جہاں ایسے بیماروں کا علاج ہوتا تھا۔چند دن کے علاج کے بعد عبد الکریم بظاہر اچھا ہو کر واپس آ گیا۔مگر اس کے کچھ عرصہ بعد اس میں ہائیڈ روفوبیا کے آثار ظاہر ہو گئے اور اس شدت کے ساتھ ظاہر ہوئے کہ جھوٹے ہائیڈ روفوبیا کا امکان نہ رہا بلکہ بیماری کی حقیقی علامات ظاہر ہو گئیں۔چونکہ لڑکا بہت دور سے آیا ہوا تھا حضرت مسیح موعود کو اس کے لئے خاص طور پر دعا کی طرف توجہ پیدا ہوئی اور ساتھ ہی آپ کے منشاء کے ماتحت کسولی کے انچارج ڈا کٹر کو تار دی گئی کہ عبدالکریم کو یہ یہ علامات ظاہر ہوگئی ہیں اس کا کیا علاج کیا جائے۔وہاں سے تار آیا کہ اب اس مرحلہ پر اس بیماری کا کوئی علاج نہیں۔مگر حضرت مسیح موعودؓ نے پھر بھی دعا جاری رکھی اور آخر آپ کی دعا سے خدا نے عبدالکریم کوشفا دی اور وہ بالکل صحت یاب ہو گیا حالانکہ اس وقت تک فن طب کا یہ متحدہ فتویٰ ہے کہ جب ایک دفعہ اس مہلک بیماری کے حقیقی آثار ظاہر ہو جائیں تو پھر اس کا کوئی علاج نہیں ہے یہ وہ نشان ہیں جو محض سنے سنائے نہیں بلکہ ہزاروں لاکھوں لوگ ان کے چشم دید گواہ ہیں اور یہ چند نشان صرف بطور مثال درج کئے گئے ہیں ورنہ حضرت مسیح موعود کی کتب اس قسم کے نشانوں سے بھری پڑی ہیں۔بے شک آجکل کے مادہ پرست لوگ ان باتوں کو پڑھ کر ہنسیں گے اور انکار کریں گے مگر جن لوگوں کی آنکھوں کے سامنے یہ نظارے گزرے ہیں وہ کس طرح انکار کر سکتے ہیں اور سچ له تلخیص از حقیقة الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۳۴۲ نشان نمبر ۱۴۳ ۲ تلخیص از تتمه حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه۴۸۱،۴۸۰