سلسلہ احمدیہ — Page 154
۱۵۴ بھی اپنے نشان نمائی کے ہاتھ کو غیر معمولی طور پر تیز کر دیا تھا اور یوں نظر آتا تھا کہ خداوند عالمیان یہ ارادہ کئے ہوئے ہے کہ ہمارا یہ چہیتا بندہ ہمارے سامنے کامل سرخروئی کے ساتھ آئے اور ہمارے دربار میں فتح وظفر کا پرچم لہراتا ہوا پہنچے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود کی زندگی کے آخری ڈھائی سال میں اتنے نشان ظاہر ہوئے اور خدا تعالیٰ نے اپنے قدرت کے ہاتھ کی اتنی تجلیاں دکھائیں اور کے مخالف اس کثرت کے ساتھ ذلت کی موت کا شکار ہوئے کہ پہلے سارے ریکارڈمات ہو گئے۔مگر افسوس ہے کہ ہم اس مختصر رسالہ میں ان سب کا ذکر نہیں کر سکتے البتہ بطور مثال صرف چند معاندین کا ذکر درج ذیل کیا جاتا ہے۔(۱) ایک شخص چراغ دین نامی جموں کا رہنے والا تھا۔وہ حضرت مسیح موعود کا سخت مخالف تھا اور اس نے کے خلاف ایک کتاب بھی لکھی تھی جس میں اس نے حضرت مسیح موعود کے ہلاک ہونے کی پیشگوئی کی تھی اور خدا سے فیصلہ چاہا تھا چنانچہ خدا نے یہ فیصلہ فرمایا کہ اس کتاب کے لکھنے کے چند دن بعد ہی یعنی ۱۹۰۶ ء میں وہ خود طاعون سے ہلاک ہو گیا اور اس کے ساتھ اس کے دو بیٹے بھی طاعون کا شکار ہو گئے اور کوئی نام لیوا باقی نہ رہا ہے (۲) ایک اور صاحب بابو الہی بخش لاہوری تھے۔اس شخص نے حضرت مسیح موعود کے خلاف ایک کتاب ” عصائے موسی لکھی تھی اور اس میں یہ پیشگوئی کی تھی کہ مرزا صاحب نعوذ باللہ فرعون ہیں اور ان کے مقابل پر میں موسیٰ ہوں اور یہ کہ فرعون موسیٰ کے سامنے ہلاک ہو گا۔مگر ۱۹۰۷ء میں وہ خود اپنے آپ کو فرعون کا مثیل ثابت کرتا ہو طاعون کا نشانہ بن گیا کے (۳) ایک شخص فقیر مرزا جو دوالمیال ضلع جہلم کا رہنے والا تھا اس نے حضرت مسیح موعود کے خلاف بہت کچھ بد زبانی کر کے آپ کی ہلاکت کی پیشگوئی کی تھی۔یعنی یہ کہ آپ رمضان کے مہینہ میں ہلاک ہو جائیں گے مگر پھر وہ خود حضرت مسیح موعود کی زندگی میں یعنی ۱۹۰۷ء میں طاعون کا شکار ہو گیا اور قدرت حق کا تماشا یہ ہے کہ اس کی موت عین رمضان کے مہینہ میں واقع ہوئی۔سکے ے حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۸۶، ۳۸۷ نشان نمبر ۱۷۴۱۷۳۔تمہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۱ تا ۳ ے۔تتمہ حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۳۹ ،۳۵۴۰ - حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۸۰ تا ۳۸۳ نشان نمبر ۱۷۱