سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 153 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 153

۱۵۳ پڑھایا جاتا ہے اور کسی قدر جغرافیہ اور سائنس اور انگریزی بھی ہے اور حال ہی میں سنسکرت کا بھی انتظام کیا گیا ہے اس درسگاہ کا سرکاری محکمہ تعلیم سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ ایک خالص قومی درسگاہ ہے جس کی غرض و غایت دین کے عالم اور دین کے مبلغ پیدا کرنا ہے۔حضرت مسیح موعود کی زندگی کے آخری ۱۹۰۵ء کا انجام ایک لحاظ سے دردانگیز حالات میں دور کا آغاز اور خدائی نشانوں کی بھرمار ہوا تھا۔یعنی اس سال کے آخر میں سلسلہ کے ایک جلیل القدر بزرگ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی وفات ہوئی جن کے وصال سے جماعت میں گویا ایک خلا پیدا ہو گیا تھا اور پھر اس سے بڑھ کر یہ کہ اسی سال کے آخری ایام میں خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت کو اپنے قرب وفات کی خبر دی جس سے جماعت میں ایک انتہائی غم اور سراسیمگی کی کیفیت پیدا ہوگئی۔عام دنیا دارانہ رنگ میں ان حالات کا یہ نتیجہ ہونا چاہئے تھا کہ کم از کم ایک وقت تک جماعت میں مایوسی اور بے ذوقی کی کیفیت پیدا ہو جاتی۔مگر چونکہ یہ سلسلہ خدا کی طرف سے قائم شدہ تھا اس لئے ان حالات نے حضرت مسیح موعود اور آپ کی جماعت ہر دو پر وہ اثر پیدا کیا جو ایک تیز گھوڑے پر تازیانہ کا اثر ہوتا ہے چنانچہ اس کے بعد سے نہ صرف سلسلہ کے کاموں میں آگے سے بھی زیادہ چستی اور تیز رفتاری پیدا ہوگئی بلکہ جماعت کے اخلاص نے بھی اس زمانہ میں غیر معمولی ترقی کی اور خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق تو یوں نظر آتا تھا کہ گویا اس خیال سے کہ اب کام کی مہلت ختم ہو رہی ہے اور خدا کے دربار میں حاضر ہوکر رپورٹ دینے کا وقت قریب آ گیا ہے آپ اپنے انتہائی زور اور انتہائی جدوجہد اور انتہائی انہماک کے ساتھ خدمت دین میں مصروف تھے اور اپنے منصب ماموریت کے سوا ہر چیز کو بھولے ہوئے تھے۔یہی وہ دن ہیں جن میں آپ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ یہ جو وقت لوازمات بشری کے ماتحت کھانے پینے یا سونے یا رفع حاجت کے لئے پاخانہ وغیرہ میں جانے میں خرچ ہوتا ہے اس کا بھی ہمیں سخت قلق ہوتا ہے کہ کاش یہ وقت بھی خدمت دین میں لگ جاتا۔آپ کی یہ حالت اس پختہ ایمان اور اس کامل یقین پر ایک روشن دلیل ہے جو آپ کو اپنے خدا داد مشن کے متعلق تھا۔دوسری طرف اس زمانہ میں خدا نے