سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 152 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 152

۱۵۲ آپ کی اس تقریر نے جو سوز و گداز سے بھری ہوئی تھی سامعین میں ایسی رفت پیدا کر دی کہ ان میں سے اکثر لوگ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔اور جب آپ نے اپنی تقریر کو ختم کیا تو سب نے بالا تفاق عرض کیا کہ جماعت کی بہتری کے لئے جو بھی تجویز کی جاوے ہم سب اس پر عمل پیرا ہونے اور اس کا بوجھ اٹھانے کے لئے دل و جان سے تیار ہیں۔اس کے بعد جماعت میں کافی دیر تک مشورہ ہوتا رہا۔اور مختلف دوستوں کی طرف سے مختلف رائیں پیش کی گئیں اور بعض نے یہ بھی مشورہ دیا کہ موجودہ مدرسه یعنی تعلیم الاسلام ہائی سکول کو اڑا کر اس کی جگہ خالص دینی مدرسہ قائم کر دیا جاوے مگر حضرت مسیح موعود نے اس تجویز کو پسند نہیں کیا اور فرمایا کہ یہ مدرسہ بھی ایک ضرورت کو پورا کر رہا ہے اور اسے اڑانا مناسب نہیں۔البتہ اس میں بھی دینی تعلیم کو زیادہ مضبوط کرنا چاہئے۔مگرعلماء اور مبلغ پیدا کرنے کے لئے علیحدہ انتظام کی ضرورت ہے۔بالآخر یہ فیصلہ قرار پایا کہ فی الحال تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ساتھ ایک دینیات کی علیحدہ شاخ زائد کر دی جائے۔یعنی پرائمری کی تعلیم کے بعد طالب علم مروجہ تعلیم کے رستے پر تعلیم پائیں اور بعض بچے دینیات کی شاخ کی طرف آجائیں جس میں عربی اور دینیات کی اعلی تعلیم کے علاوہ دوسرے مذاہب کے متعلق بھی تعلیم دی جائے اور ساتھ ہی دوسری زبانیں مثلاً انگریزی اور سنسکرت وغیرہ بھی پڑھائی جائیں اور کسی حد تک سائنس بھی ہو اور تحریر وتقریر کی بھی مشق کرائی جائے۔چنانچہ ۱۹۰۶ ء کی ابتداء سے یہ دینیات کی شاخ جاری کر دی گئی اور بعض نوجوانوں نے اپنے آپ کو خدمت دین کے لئے پیش کر دیا۔حضرت مسیح موعود کی وفات کے بعد ۱۹۰۸ء کے جلسہ سالانہ میں یہ سوال پھر جماعت کے مشورہ کے لئے پیش کیا گیا اور یہ فیصلہ ہوا کہ حضرت مسیح موعود کی یادگار میں دینیات کی شاخ تو تعلیم الاسلام ہائی سکول سے کاٹ کر ایک مستقل مدرسہ کی صورت میں قائم کر دیا جائے۔چنانچہ اس وقت سے یہ شاخ ایک مستقل مدرسہ کی صورت میں قائم ہوگئی اور یہی وہ درسگاہ ہے جو اس وقت مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ کی صورت میں قائم ہے۔اس درسگاہ میں جس کے ابتدائی حصہ کا نام مدرسہ احمدیہ ہے اور آخری حصہ کا نام جامعہ احمدیہ ہے قرآن شریف اور حدیث اور فقہ اور تصوف اور کتب کے علاوہ تاریخ اسلام اور تاریخ احمدیت اور دیگر مذاہب کا لٹریچر بھی