سلسلہ احمدیہ — Page 144
۱۴۴ یہ نظم حضرت مسیح موعود نے اپریل ۱۹۰۵ء میں لکھی اور اس کے نیچے یہ نوٹ لکھا کہ گو خدا تعالیٰ نے الہام میں زلزلہ کا لفظ استعمال کیا ہے لیکن چونکہ بعض اوقات زلزلہ کا لفظ ایک بڑی آفت اور انقلاب پر بھی بولا جاتا ہے اس لئے ممکن ہے کہ یہ مصیبت عام زلزلہ کی صورت میں نہ ہو بلکہ کوئی اور شدید آفت ہو جو قیامت کا نمونہ دکھاوے۔اور بعد کے حالات نے بتا دیا کہ اس پیشگوئی میں جنگ عظیم کی طرف اشارہ تھا جس نے ۱۹۱۴ء میں ظاہر ہو کر گویا دنیا کا نقشہ بدل دیا اور ایسی خطرناک تباہی پیدا کی جس کی نظیر کسی پہلے زمانہ میں نہیں ملتی اور پھر لطف یہ ہے کہ عین پیشگوئی کے مطابق اس زلزلہ عظیمہ نے زار کا بھی تختہ الٹ دیا۔سلسلہ کے ایک بہت بڑے عالم کی وفات :۔۱۹۰۵ء کے آخر میں کو ایک بہت بھاری صدمہ پہنچا یعنی اار اکتوبر ۱۹۰۵ء کو حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی نے وفات پائی۔مولوی صاحب مرحوم ایک نہایت جید عالم ہونے کے علاوہ ایک بہت بڑے مقرر اور مصنف بھی تھے اور ان میں خدا نے ایسے دو صفوں کو جمع کر دیا تھا جو بہت کم جمع ہوتے ہیں۔یعنی ان کی زبان اور قلم دونوں نے خدا سے خاص برکت حاصل کی تھی۔آواز نہایت بلند اور دلکش تھی اور زبان نہایت فصیح اور زور دار اور ہر لفظ اثر میں ڈوبا ہوا نکلتا تھا۔تصنیف میں بھی نہایت زور تھا۔اور سلاست اور روانی کے ساتھ فصاحت غضب کی تھی۔اس کے علاوہ طبیعت بہت زیرک اور نکتہ سنج تھی اور قرآن شریف کے معارف بیان کرنے میں خاص ملکہ تھا۔ابھی بالکل جوان ہی تھے کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول کے واسطے سے حضرت مسیح موعود کے ساتھ ملاقات کا شرف حاصل ہوا اور گو شروع شروع میں سرسید مرحوم کے خیالات کے اثر کے ماتحت طبیعت میں کسی قدر نیچریت کی طرف میلان تھا مگر حضرت مسیح موعود کی صحبت میں آکر یہ اثر آہستہ آہستہ ڈھل گیا اور چونکہ جو ہر پاک تھا اس لئے نبوت کے پر تو نے غلبہ پا کر طبیعت کو ایک خاص جلا دے دی۔وفات کے وقت حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی عمر صرف سینتالیس سال کی تھی۔اگست