سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 143 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 143

۱۴۳ چنانچہ مین ان الہاموں کے مطابق جو کئی ماہ پہلے شائع کئے جاچکے تھے اس زلزلہ نے لوگوں کو یہ قیامت کا نمونہ دکھا دیا اور پیشگوئی بڑی صفائی کیساتھ پوری ہوئی۔اس زلزلہ کے بعد آپ احتیاط کے طور پر اپنے مکان میں سے نکل کر اس باغ میں جا کر مقیم ہو گئے جو قصبہ کے جنوبی جانب واقع ہے اور کئی ماہ تک وہیں باغ میں ٹھہرے۔جہاں خیموں کے انتظام کے علاوہ چد عارضی مکانات بھی تیار کرالئے گئے تھے اور مقامی جماعت کے اکثر دوست بھی آپ کے ساتھ باغ میں چلے گئے۔اور اس طرح باغ میں ایک چھوٹا سا شہر آباد ہو گیا۔جس کے سارے باشندے گویا ایک خاندان کے فرد تھے۔انہی دنوں میں آپ نے یہ اعلان فرمایا کہ خدا نے مجھے اور زلزلوں کی بھی خبر دی ہے اور آپ نے لکھا کہ گو خدا کے الہام میں زلزلہ کا لفظ ہے مگر میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ ضرور زلزلہ ہی ہوگا بلکہ ممکن ہے کہ کوئی اور تباہی ہو جو اپنی ہلاکت میں زلزلہ سے مشابہ ہو۔چنانچہ انہی ایام میں آپ نے وہ منظوم پیشگوئی شائع فرمائی جس میں ایک عالمگیر تباہی کی خبر دی اور یہاں تک لکھا کہ یہ تباہی ایسی خطرناک ہوگی کہ خون کی ندیاں چل جائیں گی اور عمارتیں مت جائیں گی اور لوگ اپنے عیش و عشرت کو بھول کر دیوانوں کی طرح پھریں گے حتی کہ زار روس جیسے جلیل القدر بادشاہ بھی اس وقت با حال زار ہوں گے چنانچہ آپ نے فرمایا:۔اک نشاں ہے آنیوالا آج سے کچھ دن کے بعد جس سے گردش کھا ئیں گے دیہات و شہر اور مرغزار آئیگا قہر خدا سے خلق پر اک انقلاب اک برہنہ سے نہ ہوگا یہ کہ تا باندھے ازار یک بیک اک زلزلہ سے سخت جنبش کھائیں گے کیا بشر اور کیا شجر اور کیا حجر اور کیا بحار اک جھپک میں یہ زمیں ہو جائے گی زیر و زبر نالیاں خوں کی چلیں گی جیسے آپ رودبار ہوش اڑ جائیں گے انساں کے پرندوں کے حواس بھولیں گے نغموں کو اپنے سب کبوتر اور ہزار خون سے مردوں کے کوہستان کے آب رواں سرخ ہو جائیں گے جیسے ہو شراب انجبار مضمحل ہو جائیں گے اس خوف سے سب جن وانس زار بھی ہوگا تو ہو گا اس گھڑی باحال زار لے لے براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۵۲٬۱۵۱