سلسلہ احمدیہ — Page 142
۱۴۲ نبیوں کے مثیل ہیں اسی طرح آپ مثیل کرشن بھی ہیں جو ہندوؤں میں ایک بہت باخدا بزرگ اور بڑے بھاری اوتار گزرے ہیں یا لیکچر کے دوسرے دن یعنی نومبر ۱۹۰۴ء کے شروع میں آپ قادیان واپس تشریف لے آئے۔ایک تباہ کن زلزلہ اور خدائی پیشگوئی کا ظہور :۔۱۹۰۵ء کا آغاز اس مقدمہ کی فتح کے ساتھ ہوا جو مولوی کرم دین نے آپ کے خلاف دائر کر رکھا تھا اور جس میں ماتحت عدالت نے آپ پر پانچ سو روپیہ جرمانہ کیا تھا۔عدالت اپیل نے نہ صرف آپ کو بری کیا اور جرمانہ واپس دلایا بلکہ ماتحت عدالت کے فیصلہ پر سختی کے ساتھ ریمارک کئے کہ ایسے معمولی مقدمہ کو اتنا لٹکایا گیا ہے اور کرم دین کے متعلق بھی لکھا کہ وہ ان الفاظ کا پوری طرح حقدار تھا جو اس کے متعلق استعمال کئے گئے۔یہ کامیابی اس خدائی بشارت کے مطابق تھی جو پہلے سے حضرت مسیح موعود کو دی جا چکی تھی۔ابھی اس نئے سال نے زیادہ منزلیں طے نہیں کی تھیں کہ ۴ را پریل ۱۹۰۵ء کوشمالی ہندوستان میں ایک خطر ناک زلزلہ آیا۔اس زلزلہ کا مرکز ضلع دھرم سالہ کے پہاڑ تھے جہاں سب سے زیادہ تباہی آئی مگر یہ تباہی صرف دھرم سالہ تک محدود نہیں تھی بلکہ پنجاب کے ایک بہت بڑے علاقہ میں تباہی آئی اور ہزاروں جانیں اور لاکھوں روپے کی جائیداد تباہ ہو گئی اور ایک آن کی آن میں لوگوں کی آنکھوں کے سامنے قیامت کا نظارہ پھر گیا۔یہ تباہ کن زلزلہ حضرت مسیح موعود کی ایک پیشگوئی کے مطابق تھا جو چند ماہ پہلے شائع کی گئی تھی اور جس کے الفاظ یہ تھے کہ :۔عَفَتِ الذِيَارُ مَحَلُّهَا وَمُقَامُهَا ! یعنی عنقریب ایک تباہی آنیوالی ہے جس میں سکونت کی عارضی جگہیں اور مستقل جگہیں دونوں مٹ جائیں گی اور اس کے بعد ایک اور الہام میں بتایا گیا تھا کہ:۔دردناک موتوں سے عجیب طرح پر شور قیامت برپا ہے اور موتا موتی لگ رہی ہے۔سے دیکھو لیکچر سیالکوٹ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۲۸ ۲۲۲۹ - الحکم جلد نمبر ۱۸ مورخه ۳۱ رمئی ۱۹۰۴ صفحه ۹ کالم ۴ ے۔دیکھوالبدر جلد نمبر۷ مورخه ۵ مارچ ۱۹۰۵ء صفحه ۳ کالم ۱