سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 138 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 138

۱۳۸ نمونہ قائم کیا ہے جو صحابہ کے زمانہ کی یاد کو تازہ کرتا ہے چنانچہ آپ نے اس واقعہ شہادت کے متعلق ایک كتاب " تذكرة الشہادتین“ لکھ کر شائع فرمائی اور اس میں بتایا کہ وہ الہام جو خدا نے کئی سال ہوئے آپ پر نازل کیا تھا کہ دو بے گناہ بکرے ذبح کئے جائیں گے وہ ان دو شہادتوں سے پورا ہوا ہے لے اس کے بعد افغانستان میں احمدیوں پر سخت مصائب کا زمانہ شروع ہو گیا اور ان میں سے بہت سے لوگ اپنے وطن سے بھاگ کر قریب کے انگریزی علاقہ میں آگئے اور بعض قادیان میں ہجرت کر آئے اور ان لوگوں کی جائداد میں ضبط کر لی گئیں۔اور جو لوگ پیچھے ٹھہرے وہ چھپ چھپ کر اور اپنے ایمان کو مخفی رکھ کر ٹھہرے مگر ساتھ ہی مولوی عبد اللطیف صاحب کی شہادت نے کابل میں ایک بیج بھی بود یا اور بعض سعید طبیعتوں میں یہ جستجو پیدا ہو گئی کہ اس سلسلہ کے حالات معلوم کریں جس کے ایک فرد نے اپنے ایمان کی خاطر اس دلیری کے ساتھ جان دی ہے چنانچہ کچھ عرصہ کی خاموشی کے بعد پھر اندر ہی اندر احمدیت کا درخت بڑھنا شروع ہوا۔اور اب افغانستان کے مختلف حصوں میں ایک کافی جماعت پائی جاتی ہے۔مگر اب تک بھی یہ لوگ کھل کر ظاہر نہیں ہو سکتے ہے لاہور اور سیالکوٹ کے سفر اور مثیل کرشن ہونے کا دعوی:۔۱۹۰۳ء اور ۱۹۰۴ء کے سال زیادہ تر اس مقدمہ کی مصروفیت میں گزرے جو مولوی کرم دین جہلمی نے حضرت مسیح موعود کے خلاف دائر کر رکھا تھا۔اس مقدمہ کی پیروی میں بظاہر بہت سا وقت ضائع کیا مگر چونکہ ہر کام میں اللہ تعالیٰ کی کوئی نہ کوئی مصلحت ہوتی ہے اس لئے گو ایک لحاظ سے یہ وقت ضائع گیا اور حضرت مسیح موعود کو مقدمہ کی پریشانی بھی لاحق ہوئی لیکن دوسری جہت سے یہ مقدمہ باعث رحمت بھی ہو گیا۔یعنی اوّل تو اس کے ذریعہ خدا تعالیٰ کا یہ نشان ظاہر ہوا کہ آنے والے مقدمہ اور بالآخر اس کی کامیابی کے متعلق حضرت مسیح موعود کو جو الہامات ہوئے تھے وہ پورے ہو کر کئی لوگوں کی ہدایت اور جماعت کے از دیاد ایمان کا باعث ہوئے۔دوسرے چونکہ حضرت مسیح موعود اس مقدمہ کے دوران میں زیادہ تر سفر کی دیکھو تذکرۃ الشہادتین ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۲۷۲ مولوی عبد اللطیف صاحب کی شہادت کے واقعہ کے متعلق تصدیقی گواہی کے لئے دیکھو کتاب ”انڈر دی ابسولیوٹ امیر مصنفہ مسٹر مارٹن سابق انجینئر ان چیف کا بل۔