سلسلہ احمدیہ — Page 137
۱۳۷ میں جہاد کا منکر نہیں ہوں البتہ چونکہ اس زمانہ میں جہاد کی ضرورت نہیں اور وہ حالات موجود نہیں جن میں اسلام نے تلوار کا جہاد جائز رکھا ہے اس لئے میں موجودہ زمانہ میں جہاد بالسیف کا قائل نہیں ہوں۔غرض علماء کے ساتھ مولوی صاحب کی بہت بحث ہوئی مگر کابل کے علما ء اپنی ضد پر قائم رہے اور بالآخر انہوں نے متفقہ طور پر مولوی صاحب کو مرتد قرار دے کر ان کے قتل کا فتویٰ دیا۔اس پر امیر حبیب اللہ خان نے مولوی صاحب کو سمجھایا کہ اس وقت ضدا اچھی نہیں اور مخالفت کا بہت زور ہے بہتر ہے کہ آپ اپنے عقائد سے توبہ کا اعلان کر دیں۔مولوی صاحب نے کہا کہ میں نے جس بات کو خدا کی طرف سے حق سمجھ کر یقین کیا ہے اسے نہیں چھوڑوں گا اور میں اپنی جان کو بچانے کے لئے اپنے ایمان کو ضائع نہیں کر سکتا۔اس پر علماء کے دباؤ کے نیچے آکر امیر نے مولوی صاحب کے قتل کا حکم دے دیا اور قتل کے طریق کے متعلق یہ فیصلہ کیا گیا کہ زمین میں ایک گڑھا کھود کر مولوی صاحب کو اس گڑھے میں کمر تک دفن کر دیا جائے اور پھر ان پر پتھروں کی بارش برسا کر انہیں ہلاک کر دیا جائے۔چنانچہ شہر سے باہر کھلے میدان میں یہ انتظام کیا گیا اور کابل کے سب علماء اور رؤسا اور خود امیر اور دوسرے لوگ اس جگہ جمع ہوئے۔جب مولوی صاحب کو کمر تک زمین میں دفن کر دیا گیا اور صرف اوپر کا دھڑ باہر رہا تو امیر کابل پھر آگے بڑھ کر مولوی صاحب کے پاس گیا اور کہا کہ اب بھی وقت ہے اگر آپ تو بہ کر لیں تو علماء کا جوش دب جائے گا۔مگر مولوی صاحب نے سختی کے ساتھ انکار کیا اور کہا میں کسی قیمت پر بھی اپنے ایمان کو ضائع نہیں کروں گا اور اب میری صرف اس قدر درخواست ہے کہ تم جلدی کرو تا کہ جو پردہ مجھے جنت سے جدا کر رہا ہے وہ درمیان سے اٹھ جاوے۔اس پر امیر نے پتھراؤ کا حکم دیا جس پر اس زور سے پتھر برسے کہ دیکھتے ہی دیکھتے پتھروں کا ایک پہاڑ کھڑا ہوگا اور اس عاشق مسیح کی روح اپنے ابدی ٹھکانہ میں پہنچ گئی۔جب حضرت مسیح موعود کو اس واقعہ کی اطلاع پہنچی اور ساتھ ہی یہ خبر بھی ملی کہ اس سے قبل مولوی عبد اللطیف صاحب کے ایک شاگرد مولوی عبد الرحمن صاحب کو بھی کا بل میں شہید کیا گیا تھا تو آپ کو بہت صدمہ پہنچا مگر اس جہت سے خوشی بھی ہوئی کہ آپ کے ان دو خلصین نے ایمان کا ایسا اعلیٰ