سلسلہ احمدیہ — Page 127
۱۲۷ طرح لوگوں کو اوپر اٹھانے میں لگے ہوئے تھے اور جلسہ سالانہ کے اجتماع بھی جماعت میں ایک تازہ زندگی کی روح پھونکتے تھے۔سوم تیسرا بڑا ذریعہ جماعت کی تعلیم و تربیت کا یہ تھا کہ آپ جماعت کو ہر وقت اپنے مخالفین کے خلاف اس قلمی اور لسانی جہاد میں لگائے رکھتے تھے جس میں آپ خود ہر لحظہ مصروف رہتے تھے۔بظاہر اس بات کا جماعت کی اندرونی تعلیم و تربیت کے ساتھ تعلق نظر نہیں آتا مگر حقیقت ان دونوں باتوں کا ایک بہت بھاری اور نہایت عمیق تعلق ہے جسے آپ خوب سمجھتے تھے چنانچہ ایک دفعہ حضرت مولوی نورالدین صاحب نے جو بعد میں آپ کے خلیفہ ہوئے آپ سے دریافت کیا کہ مجھے اپنے نفس کی اصلاح کے لئے کوئی خاص عمل بتا ئیں جس پر آپ نے انہیں فرمایا کہ اس وقت اسلام کے خلاف عیسائیوں کے بہت حملے ہورہے ہیں آپ ان کے جواب میں کوئی کتاب لکھ کر شائع کریں۔اس کے بعد پھر ایک دفعہ حضرت مولوی صاحب نے ایسا ہی سوال کیا تو آپ نے انہیں آریوں کے خلاف کتاب لکھنے کی ہدایت فرمائی اور حضرت مولوی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ مجھے ان تصنیفات نے بہت ہی فائدہ دیا۔غرض حضرت مسیح موعود کا بڑا ذریعہ تعلیم و تربیت کا یہ بھی تھا کہ آپ اپنی جماعت کو ہر وقت جہاد میں مصروف رکھتے تھے جس میں ان کو کئی لحاظ سے فائدہ پہنچتا تھا مثلاً (۱) ان کے علم و معرفت میں ترقی ہوتی تھی۔(۲) ان کی توجہ مسلسل طور پر ایک دینی اور ملی کام میں لگی رہتی تھی جو اپنی ذات میں اصلاح نفس کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔(۳) اس جہاد میں انکو یہ احساس رہتا تھا کہ ہم دوسروں کے لئے ایک عمدہ نمونہ بنیں تا کہ ہمارا فعل ہمارے قول کا مؤیدر ہے۔(۴) ان کا وقت ہمیشہ ایک مفید کام میں لگارہتا تھا جس کی وجہ سے وہ اس دماغی بیکاری سے بچے رہتے تھے جو بہت سی خباثتوں کی ماں ہے(۵) وہ خدا سے ان برکتوں کا حصہ پاتے تھے جو ازل سے دین کے سچے خادموں کے لئے مقدر ہو چکی ہیں۔الغرض آپ ہمیشہ اپنی جماعت کو دوسروں کے مقابلہ میں لگائے رکھتے تھے کیونکہ آپ اس نکتہ کو خوب سمجھتے اور جانتے تھے کہ قومی زندگی دفاع میں نہیں بلکہ حملہ میں مخفی ہے۔