سلسلہ احمدیہ — Page 126
طریق تھا کہ بعض نمازوں کے بعد آپ مسجد میں ہی بیٹھ جاتے تھے اور دوسرے لوگ آپ کے اردگرد جمع ہو جاتے تھے اور پھر موقعہ اور حالات کے مناسب گفتگو ہوتی رہتی تھی اور لوگ آپ کی باتوں کو نہایت شوق اور محبت کے ساتھ سنتے اور آپ کے مبارک کلام کو اپنے اندر جذب کرتے جاتے تھے۔یہ مجلس نہایت بے تکلفی کی مجلس ہوتی تھی جس میں ہر شخص آپ کے ساتھ بے تکلفی کے انداز میں گفتگو کرتا تھا اور آپ ہر شخص کی بات کو سنتے اور اس کا جواب دیتے تھے۔اس مجلس میں بیٹھنے والوں کے لئے کوئی ترتیب مقرر نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی آپ کے لئے کوئی خاص مسند ہوتی تھی۔بلکہ آپ اور آپ کے ساتھی بے تکلفی کے رنگ میں جسطرح ایک مشفق باپ کے اردگر داس کے بیٹے بیٹھے ہوں اکٹھے بیٹھ کر گفتگو فرماتے تھے اور مجلس میں ہر قسم کی گفتگو ہوتی تھی یعنی دشمنوں کا ذکر بھی ہوتا تھا اور دوستوں کا بھی قوموں کا بھی اور افراد کا بھی۔پرائیویٹ باتوں کا بھی اور پبلک کا بھی۔عقائد و خیالات کا بھی اور اعمال وافعال کا بھی۔جماعت کی موجودہ مشکلات کا بھی اور اس کی آئندہ ترقیات کا بھی۔غرض ہر رنگ کی گفتگو رہتی تھی اور سب لوگ اپنی باتوں کو سادگی اور بے تکلفی کے ساتھ پیش کرتے تھے اور آپ ان کے جواب میں اسی سادگی اور بے تکلفی کے ساتھ گفتگو فرماتے تھے۔غرض یہ ایک علم وعرفان اور محبت و وفا کا درس تھا جو آپ کی مجلس میں جاری رہتا تھا اور ہر شخص اپنی بساط اور اپنی استعداد کے مطابق اس چشمہ سے پانی لیتا تھا۔اسی طرح کے موقعے آپ کی روزانہ سیروں میں بھی میسر آتے تھے جو آپ عموماً ہر روز صبح کے وقت اپنے دوستوں کے ساتھ فرمایا کرتے تھے اور قادیان سے باہر دو دو تین تین میل تک چہل قدمی کرتے ہوئے نکل جاتے تھے۔اس وقت بھی اس شمع کے پروانے آپ کے گرد گھومتے تھے اور ہر شخص آپ کے ساتھ چھو کر برکت و معرفت کا جام پیتا تھا۔یہ مجلسیں اور یہ سیر یں گویا ایک روحانی دھوبی کا کارخانہ تھیں اس میں لوگوں کی میلیں خود بخود دھلتی چلی جاتی تھیں اور وہ طہارت اور پاکیزگی کے میدان میں اپنے ہر قدم کو دوسرے قدم سے آگے پاتے تھے۔اسی طرح تحریر کے میدان میں آپ کی کتابیں اور اشتہارات اور جماعت کے رسالے اور اخبارات ایک نہایت ماہر استاد کی۔