سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 93 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 93

۹۳ معصوم قرار دینا پرلے درجہ کی جہالت اور ہٹ دھرمی کے سوا کچھ نہیں۔اے خطبہ الہامیہ : ۱۹۰۰ ء کے شروع میں حضرت مسیح موعود کے ہاتھ پر ایک نہایت لطیف اور علمی معجزہ ظاہر ہوا اور وہ یہ کہ جب اس سال کی عید الاضحی کا موقعہ آیا تو آپ کو خدا تعالیٰ نے الہاما حکم دیا کہ تم عید کے موقعہ پر عربی زبان میں تقریر کرو اور ہم تمہاری مدد کریں گے۔چنانچہ باوجود اس کے کہ آپ نے کبھی عربی میں تقریر نہیں کی تھی آپ اس خدائی حکم کے ماتحت تقریر کے لئے کھڑے ہو گئے اور قادیان کی مسجد اقصیٰ میں قربانی کے مسئلہ پر ایک نہایت لطیف اور لمبی تقریر فرمائی۔اس وقت آپ کی آنکھیں قریب بند تھیں اور چہرہ پر سرخی کے آثار تھے اور آپ نہایت روانی کے ساتھ بولتے جاتے تھے اور تقریر لکھنے والوں کو آپ نے یہ تاکید کر رکھی تھی کہ اگر کوئی لفظ مجھ نہ آوے تو فورا پوچھ لیں کیونکہ ممکن ہے کہ وہ بعد میں مجھے بھی یاد نہ رہے۔یہ تقریر بعد میں خطبہ الہامیہ کے نام سے شائع ہو چکی ہے جس کے ابتدائی اڑ میں (۳۸) صفحے اصل خطبہ کے ہیں اور باقی حصہ آپ نے بعد میں زیادہ کیا ہے اور اس کتاب کے مطالعہ سے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ نہ صرف زبان کی فصاحت و بلاغت بلکہ مضامین کی لطافت اور ندرت کے لحاظ سے یہ تقریر ایک فوق العادت شان رکھتی ہے۔آپ بعد میں فرماتے تھے کہ اس تقریر کے دوران میں بسا اوقات میرے سامنے غیب کی طرف سے لکھ ہوئے الفاظ پیش کئے جاتے تھے اور میں اپنے آپ کو ایسا خیال کرتا تھا کہ گویا خدا کے طاقتور ہاتھ میں ایک مردہ کی طرح پڑا ہوں اور وہ جس طرح چاہتا ہے میری زبان پر تصرف فرمارہا ہے۔ممانعت جہاد کا فتوی: یہ بتایا جا چکا ہے کہ حضرت مسیح موعود ابتداء دعولی سے ہی اپنے مشن کو ایک امن اور صلح کا مشن خیال کرتے تھے اور کسی خونی مسیح یا خونی مہدی کے قائل نہیں تھے اور نہ ہی مذہب کے معاملہ میں جبر اور تشدد کو جائز سمجھتے تھے۔لیکن اب ۱۹۰۰ء میں آکر آپ نے ایک با قاعدہ فتویٰ کے ذریعہ اس بات ا اعلان فرمایا کہ اگر آنحضرت ﷺ نے اسلام کے لئے تلوار کا جہاد کیا تو لے دیکھور یویو آف ریلیجنز جلد نمبر ۵، ۱۲،۱۱،۹