سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 82 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 82

۸۲ کے متعلق تھی۔اس وقت تک جیسا کہ احمدیوں اور غیر احمدی مسلمانوں کی نماز مشترک تھی یعنی احمدی لوگ غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھ لیتے تھے اسی طرح باہمی رشتہ ناطہ کی بھی اجازت تھی یعنی احمدی لڑکیاں غیر احمدی لڑکوں کے ساتھ بیاہ دی جاتی تھیں مگر ۱۸۹۸ء میں حضرت مسیح موعود نے اس کی بھی ممانعت فرما دی اور آئندہ کے لئے ارشاد فرمایا کہ کوئی احمدی لڑکی غیر احمدی مرد کے ساتھ نہ بیاہی جاوے لیے یہ اس حکم کی ایک ابتدائی صورت تھی جس کے بعد اس میں مزید وضاحت ہوتی گئی اور اس حکم میں حکمت یہ تھی کہ طبعا اور قانو نا ازدواجی زندگی میں مرد کو عورت پر انتظامی لحاظ سے غلبہ حاصل ہوتا ہے پس اگر ایک احمدی لڑکی غیر احمدی کے ساتھ بیاہی جائے تو اس بات کا قوی اندیشہ ہوسکتا ہے کہ مرد عورت کے دین کو خراب کرنے کی کوشش کرے گا اور خواہ اسے اس میں کامیابی نہ ہولیکن بہر حال یہ ایک خطرہ کا پہلو ہے جس سے احمدی لڑکیوں کو محفوظ رکھنا ضروری تھا۔علاوہ ازیں چونکہ اولا د عموماً باپ کی تابع ہوتی ہے اس لئے اس قسم کے رشتوں کی اجازت دینے کے یہ معنے بھی بنتے ہیں کہ ایک احمدی لڑکی کو اس غرض سے غیر احمدیوں کے سپر د کر دیا جائے کہ وہ اس کے ذریعہ غیر احمدی اولاد پیدا کریں۔اس قسم کی وجوہات کی بناء پر آپ نے آئندہ کے لئے یہ ہدایت جاری فرمائی کہ گو حسب ضرورت غیر احمدی لڑکی کا رشتہ لیا جا سکتا ہے مگر کوئی احمدی لڑکی غیر احمدی کے ساتھ نہ بیاہی جاوے بلکہ احمد یوں کے رشتے صرف آپس میں ہوں۔لیکن جولڑ کیاں اس ہدایت سے پہلے غیر احمدیوں کے نکاح میں آچکی تھیں ان کے متعلق آپ نے یہ ہدایت نہیں دی کہ ان کے نکاح فسخ ہو گئے ہیں کیونکہ اول تو اس کا عملی اجراء اپنے اختیار میں نہیں تھا دوسرے اس قسم کے حکم سے فتنوں اور پیچیدگیوں کے پیدا ہونے کا احتمال تھا جس سے بہر صورت بچن لا زم ہے۔حضرت مسیح موعود کے خلاف ایک اور فوجداری مقدمہ :۔اقدام قتل کا وہ خطرناک اور جھوٹا مقدمہ جو ڈاکٹر مارٹن کلارک نے ۱۸۹۷ء میں حضرت مسیح موعود کے خلاف دائر کیا تھا اور جس لے اشتہار مورخہ ۷ جون ۱۸۹۸ء مشخص از مجموعه اشتہارات جلد دوم صفحه ۲۲۳ ۲۲۴ جدید ایڈیشن