سلسلہ احمدیہ — Page 53
۵۳ کے آوے کہ تمہاری یہ یہ چیز خراب اور گندی ہے تو وہ بجائے اعتراض کو جھوٹا ثابت کرنے اور اپنی چیز کی خوبی کے دلائل دینے کے سامنے سے ہاتھ جوڑ کر یہ کہنے لگ جاوے کہ آپ کو غلطی لگی ہے یہ چیز تو میری ہے ہی نہیں میری چیز تو وہ ہے اس شکست خوردہ ذہنیت کے ماتحت سرسید مرحوم نے اسلام کی بہت سی باتوں سے انکار کر دیا اور بعض کی ایسی تاویل کرنی شروع کی کہ مذہب کی صورت ہی بدل گئی۔حضرت مسیح موعود نے اس ہزیمت کو دیکھا تو غیرت کے جوش سے اٹھ کھڑے ہوئے چنانچہ آپ کی جس تصنیف کا ہم ابھی ذکر کر چکے ہیں یعنی ” آئینہ کمالات اسلام“ اس میں آپ نے متفرق جگہ سرسید کی غلط تاویلات کا رد کر کے اسلام کی صحیح تعلیم پیش کی ہے اور عیسائیوں کو تحدی کے ساتھ بلایا ہے کہ اگر کسی میں ہمت ہے تو میرے سامنے آئے۔اسی خطرہ کے انسداد میں آپ نے ۱۸۹۳ء میں ایک مخصوص تصنیف بھی لکھ کر شائع فرمائی جس کا نام ” برکات الدعا ہے۔اس کتاب میں آپ نے سرسید احمد خان صاحب کے اس غلط عقیدہ کا بطلان کیا کہ دعا محض ایک عبادت ہے ورنہ وہ دنیا کے کاموں کی رو کو بدلنے کی طاقت نہیں رکھتی جو سب اپنے اپنے مقررہ قانون کے ماتحت اپنی اپنی صورت میں چل رہے ہیں اور چلتے چلے جائیں گے۔آپ نے ثابت کیا کہ اسلام کا خدا ایک زندہ خدا ہے جو دنیا کو پیدا کرنے کے بعد اس کی حکومت سے معطل نہیں ہوا بلکہ اب بھی دنیا کی ہر چیز ہر وقت اس کے قبضہ قدرت میں ہے اور گو قضاء وقدر اور خواص الاشیاء کی عام تقدیر جس کا دوسرا نام قانونِ قدرت ہے خدا ہی کی جاری کردہ ہے اور وہ اس میں سوائے خاص استثنائی حالات کے کوئی تبدیلی نہیں کرتا لیکن چونکہ وہ اپنے قانون پر غالب ہے اس لئے اگر وہ چاہے اور مناسب خیال کرے تو جب چاہے اپنے بنائے ہوئے قانون میں تبدیلی کر سکتا ہے اور یہ تبدیلی بھی خدا کے وسیع قانون کا ایک حصہ ہے چنانچہ خدا گا ہے گاہے اپنے خاص بندوں کے لئے اور خاص مصالح کے ماتحت تبدیلی کرتا بھی ہے اور اسی کا نام معجزہ ہے جو بعض اوقات قبولیت دعا کی صورت میں اور بعض اوقات ویسے ہی خدا کے منشاء کے ماتحت استثنائی قانون کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور آپ نے چیلنج دیا کہ اگر کوئی شخص اس قسم کا معجزہ دیکھنا چاہے تو وہ میرے پاس آئے میں اسے خدا کے فضل سے ایسا نشان دکھاؤں گا جو اس کے شبہات کی