سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 45 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 45

۴۵ کے رشتہ داروں میں سے تھے۔مگر سخت دنیا دار تھے اور دین کی طرف سے قطعاً غافل تھے اور اپنے دوسرے عزیزوں کی طرح حضرت مسیح موعود سے اس بات کے طالب رہتے تھے کہ انہیں کوئی نشان دکھا یا جاوے۔اتفاق ایسا ہوا کہ اسی زمانہ میں وہ حضرت مسیح موعود سے ایک احسان کے طالب ہوئے یعنی یہ درخواست کی کہ آپ اپنی جائیداد کا ایک حصہ جو آپ کو اپنے ایک مفقودالخبر رشتہ دار کی طرف سے پہنچنے والا تھا ان کے بیٹے کے نام ہبہ کر دیں۔حضرت مسیح موعود نے اس کے متعلق حسب عادت استخارہ کیا اور دعا مانگی تو آپ کو خدا کی طرف سے الہام ہوا کہ اس شخص سے یہ تحر یک کرو کہ وہ اپنی بڑی لڑکی کا رشتہ تم سے کر دے۔پھر اگر اس نے اس تجویز کو مان لیا تو یہ لوگ خدا کی طرف سے رحمت کا نشان پائیں گے اور اگر انکار کیا تو اس صورت میں وہ عذاب کا نشان دیکھیں گے۔گویا یہ رشتہ حضرت ہود کی اوٹنی کی طرح کے نشان نمائی کا ایک واسطہ بن گیا اور یہ پیشگوئی مرکب رنگ رکھتی تھی یعنی اس کے دو پہلو تھے ایک پہلو رحمت کا تھا جو رشتہ کے ساتھ وابستہ تھا اور دوسرا پہلو عذاب کا تھا جو انکار کے ساتھ وابستہ تھا اور حضرت مسیح موعود نے یہ تصریح فرمائی کہ ہمیں اس رشتہ کی کوئی خواہش نہیں ہے اور یہ کہ اس پیشگوئی کی اصل غرض رشتہ نہیں بلکہ نشان نمائی ہے اور رشتہ صرف ایک علامت کے طور پر ہے اور انکار کی صورت میں آپ نے مرزا احمد بیگ کی موت کے لئے تین سال اور ان کے داماد کے لئے اڑھائی سال کی میعاد مقررفرمائی ہے مگر افسوس کہ ان لوگوں نے رحمت کے نشان کو رد کر دیا اور ۱۸۹۲ء کے ابتداء میں اس لڑکی کی شادی ایک صاحب مرزا سلطان محمد بیگ نامی کے ساتھ کر دی اور خدا سے مقابلہ کی ٹھان کر پیشگوئی کے عذاب کے پہلو کو اپنے اوپر لے لیا۔چنانچہ ابھی اس رشتہ پر چھ ماہ بھی نہیں گزرے تھے کہ ماہ ستمبر ۱۸۹۲ء میں لڑکی کے والد مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری تپ محرقہ میں مبتلاء ہو کر اس جہان سے رخصت ہوئے اور خاندان کی ساری خوشیاں خاک میں مل گئیں۔سے اس اچانک حادثہ نے خاندان کے دوسرے افراد کے دل میں سخت خوف پیدا کر دیا اور ان میں سے بعض نے حضرت مسیح موعود کی خدمت میں عاجزی اور هود: ۲۶۵ دیکھو اشتہارات مورخہ ۰ ارجولائی ۱۸۸۸ء و ۱۵ار جولائی ۱۸۸۸ء۔( مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ ۱۳۶ آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۳۲۱ جدید ایڈیشن)