سلسلہ احمدیہ — Page 403
۴۰۳ خوشی پاتا ہے تو اس رو نے ایسا زور پکڑا کہ ہزارہا مسلمان جتھوں میں شریک ہو کر جیل خانوں کے مہمان بن گئے اور اس طوفان بے تمیزی میں حکومت ہند کی ہمدردی بھی پلٹا کھا کر پھر ایک حد تک ریاست کے حق میں ہو گئی۔اس کے بعد اہل کشمیر کو حقوق تو بے شک ملے مگر اس قدر نہیں جو اس جتھہ بازی سے پہلے ملتے نظر آتے تھے اور اندرونی باتوں کا علم رکھنے والے خوب جانتے ہیں کہ جتھوں نے فی الجملہ مسلمانوں کے حقوق کو سخت نقصان پہنچایا۔مگر بہر حال احرار لیڈروں نے اپنی ضد پوری کر لی اور تحریک کشمیر کو آڑ بنا کر احمدیت کے مقابل پر میدانِ کارزار میں اتر آئے۔انہی دنوں میں ایک مشہور احرار لیڈر چوہدری افضل حق صاحب نے آنرز یبل سر سکندرحیات خان صاحب موجودہ وزیر اعظم پنجاب کی کوٹھی میں بیٹھے ہوئے حضرت خلیفہ مسیح کے منہ پر کہا کہ ہم نے اب یہ قطعی طور پر فیصلہ کر لیا ہے کہ احمدیت کے ساتھ ایک تباہ کن جنگ لڑ کر چھوڑیں گے۔لڑ وخوب لڑو۔شوق سے لڑو۔یہ جنگ نئی نہیں بلکہ بہت پرانی ہے جو لڑنے والے آدم سے لے کر سرور کائنات تک لڑتے آئے ہیں۔پس لڑو اور اپنے سارے جتھے اور سارے ہتھیاروں کے ساتھ لڑو۔مگر یا درکھو کہ اس جنگ میں وہی جیتے گا جس کے ہاتھ پر ازل سے فتح مقدر ہے۔کیونکہ خدا کا وعدہ ہے کہ:۔كَتَبَ اللهُ لَاغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِي وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلِب يَنْقَلِبُون خدا نے یہ بات لکھ رکھی ہے کہ ہر روحانی جنگ میں وہ اور اس کے رسول ہی غالب آئیں گے۔اور ظالم لوگوں کو عنقریب پتہ لگ جائے گا کہ ان کی قسمت کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔خدا کے دو تازہ نشان۔افغانستان ادھر جماعت احمدیہ کو احرار ہند کا یہ الٹی میٹم مل رہا تھا اور ادھر خدائے عرش آسمان پر فرشتوں کو حکم دے رہا تھا کہ کا تخت اور بہار کی سرزمین :۔آجکل میری قائم کی ہوئی جماعت۔میری سچی توحید کی حامل جماعت۔میرے اسلام کی خادم جماعت۔میری خوشی کے خلاف مگر میری اپنی ہی بنائی ہوئی تقدیر کے مطابق زمین پر پھر مظالم کا تختہ مشق بننے والی ہے تم ذرا اپنی طاقتوں کو حرکت میں لا کر اہل دنیا