سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 373 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 373

۳۷۳ میں ہمارا ایک اور بھائی شہید کر دیا گیا ہے۔ان صاحب کا نام مولوی نعمت اللہ صاحب تھا جنہیں حضرت خلیفہ اسیح نے افغانستان میں تبلیغ کے لئے بھجوایا تھا اور افغانستان کے خاص حالات کے ماتحت انہیں تاکید کی تھی کہ ایسے رنگ میں کام کریں کہ لوگوں تک حق بھی پہنچ جائے اور خواہ نخواہ ملک میں شور بھی نہ پیدا ہو۔مگر پھر بھی جب حکومت افغانستان کو پتہ لگا کہ افغانستان کی حدود میں احمدیت کے عقائد کی تبلیغ ہو رہی ہے تو اس نے مولوی نعمت اللہ خان صاحب کو گرفتار کر کے اپنی مذہبی عدالت میں مقدمہ چلایا اور پھر علماء کے فتویٰ کے مطابق مولوی صاحب موصوف کو نہایت بے رحمی اور بے دردی کے ساتھ سنگسار کر دیا گیا۔افغانستان میں یہ تیسرا واقعہ تھا کیونکہ اس سے پہلے ہماری جماعت کے دو معزز اصحاب اس سرزمین میں حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں شہید کئے جاچکے تھے۔ہمیں امید تھی کہ امیر امان اللہ خان جیسا آزاد خیال حکمران اس معاملہ میں اپنی پالیسی کو بدل لے گا مگر افسوس کہ ہماری توقعات پوری نہ ہوئیں اور کامل کی زمین نے ہمارے ایک اور بھائی کا خون اپنے سر لے لیا۔جیسا کہ ہم حضرت مسیح موعود کے سوانح میں بتا چکے ہیں سنگسار کرنے کا طریق یہ ہے کہ جس شخص کو یہ سزا دینی ہوا سے کمر تک زمین میں زندہ گاڑ کر اور اس کے ارد گر دمٹی پیوست کر کے تا کہ وہ نہ تو بھاگ سکے اور نہ ہی حرکت کر سکے اس پر چاروں طرف سے پتھروں کی بارش برسائی جاتی ہے حتی کہ ان پتھروں کی ضرب سے اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کر جاتی ہے۔سو یہی سلوک ہمارے بھائی مولوی نعمت اللہ خان صاحب کے ساتھ کیا گیا۔دیکھنے والے کہتے ہیں کہ زمین میں گاڑتے ہوئے مولوی نعمت اللہ صاحب سے کہا کہ اب بھی وقت ہے اپنے عقائد سے توبہ کر لو۔مگر انہوں نے اس تجویز کو نفرت کے ساتھ ٹھکرا دیا اور کہا کہ جان تو ایک معمولی چیز ہے خواہ کچھ ہو میں اس صداقت کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا جو مجھے خدا کی طرف سے حضرت مسیح موعود کے ذریعہ حاصل ہوئی ہے۔اس پر پتھراؤ کا حکم دیا گیا اور چاروں طرف سے پتھروں کی بارش ہونے لگی اور جلدی ہی یہ خدا کا عاشق اپنے معشوق کی گود میں پہنچ گیا۔مولوی نعمت اللہ صاحب اس وقت بالکل جوان تھے مگر انہوں نے قربانی کا وہ اعلیٰ نمونہ