سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 313 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 313

۳۱۳ مرکزی آرگن ہے۔چوتھا اخبار ”پیغام صلح لاہور سے مار جولائی ۱۹۱۳ء سے جاری ہوا۔اس اخبار کے انتظام کی باگ ڈوران اصحاب کے ہاتھ میں تھی جو خلافت کو اڑا کر صدرانجمن احمدیہ کے انتظام کو قائم کرنا چاہتے تھے اور اب یہی اخبار لاہوری پارٹی کا افیشل آرگن ہے۔یہ جملہ اخبارات ہفتہ واری تھے اور ان سے جماعت کے پریس کی تعداد میں ایک نمایاں اضافہ ہوا۔اور چونکہ حضرت خلیفہ اوّل کے آخری ایام میں گورنمنٹ کی طرف سے ضمانت کا مطالبہ ہونے پر اخبار بدر بند ہو گیا تھا اور صرف الحکم باقی تھا اس لئے ان جدید چار اخباروں کے اجراء سے جماعت کے اخباروں کی تعداد پانچ تک پہنچ گئی جو جماعت کی تعداد اور وسعت کے لحاظ سے یقیناً ایک بہت بڑی تعداد تھی۔جماعت احمدیہ کا پہلا بیرونی مشن :۔حضرت طاریہ اسبح اول کے عہد مبارک کی ایک یادگار یہ بھی ہے کہ آپ کے زمانہ میں جماعت کا پہلا بیرونی تبلیغی مشن قائم ہوا۔اس وقت تک براه راست تبلیغ صرف ہندوستان تک محدود تھی اور بیرونی ممالک میں صرف خط و کتابت یا رسالہ جات وغیرہ کے ذریعہ تبلیغ ہوتی تھی۔لیکن حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں آکر جماعت کا پہلا بیرونی مشن قائم ہوا۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ ۱۹۱۲ ء کے نصف آخر میں خواجہ کمال الدین صاحب بی۔اے ایل ایل بی کو ایک مسلمان رئیس نے اپنے ایک مقدمہ کے تعلق میں اپنی طرف سے اخراجات دے کر ولایت بھجوانے کا انتظام کیا چنانچہ خواجہ صاحب موصوف ۷ ستمبر ۱۹۱۲ء کو انگلستان روانہ ہو گئے اور چونکہ ہر احمدی کو تبلیغ کا خیال غالب رہتا ہے خواجہ صاحب نے بھی اس سفر میں تبلیغ کی نیت رکھی اور ولایت کے قیام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں بعض تبلیغی لیکچر دیئے اور پھر آہستہ آہستہ وہیں ٹھہر کر اسی کام میں مصروف ہو گئے۔کچھ عرصہ کے بعد خواجہ صاحب نے حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں لکھا کہ مجھے کوئی نائب بھجوایا جائے۔حضرت خلیفہ اول نے چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم اے کو تجویز فرمایا اور چونکہ چوہدری صاحب انجمن انصار اللہ کے ممبر تھے جو حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے اس زمانہ