سلسلہ احمدیہ — Page 311
۳۱۱ کوشش مولا نا سید محمد سرور شاہ صاحب کی تھی۔مولانا موصوف سلسلہ عالیہ احمدیہ کے ایک جید عالم ہیں اور حضرت مسیح موعود کے خاص صحابہ میں شامل ہیں انہوں نے صدر انجمن احمد یہ کے انتظام کے ماتحت حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں ایک تغیر اردو میں لکھنی شروع کی اور یہ کام حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں بھی جاری رہا۔یہ تفسیر بہت مفصل تھی مگر افسوس ہے کہ قریباً آٹھ پاروں کی تفسیر شائع ہو جانے کے بعد صدر انجمن احمد یہ اس مفید کام کو جاری نہیں رکھ سکی۔اسی زمانہ میں یعنی حضرت خلیفہ اول کے عہد خلافت کے اوائل میں صدرا انجمن احمدیہ نے مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے کو مقرر کیا کہ وہ قرآن شریف کا انگریزی میں ترجمہ کریں اور اس کے ساتھ مختصر تفسیری نوٹ بھی لکھیں تا کہ یہ ترجمہ ممالک مغربی میں شائع کیا جا سکے۔چنانچہ مولوی صاحب موصوف نے کئی سال لگا کر اور کافی محنت اٹھا کر ایک انگریزی ترجمہ تیار کیا اور تفسیری نوٹوں کی تیاری میں حضرت خلیفہ اول سے جو ایک عدیم المثال مفسر قرآن تھے کافی امداد لی مگر پیشتر اس کے کہ یہ کام تکمیل کو پہنچتا حضرت خلیفہ اول کی وفات ہو گئی اور مولوی محمد علی صاحب اور ان کے ساتھی مرکز سلسلہ سے کٹ کر لاہور چلے گئے۔اور گو اس ترجمہ کے جملہ مصارف صدر انجمن احمدیہ نے برداشت کئے تھے اور صد را انجمن احمد یہ بدستور قادیان میں قائم تھی مگر لاہور جاتے ہوئے وہ اس ترجمہ اور تفسیر کو بھی اپنے ساتھ لیتے گئے اور وہیں اسے مکمل کر کے اپنی طرف سے شائع کر دیا۔ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس ترجمہ اور تفسیر کی تکمیل کے وقت اس میں کیا کیا تبدیلی کی گئی کیونکہ اس وقت جماعت کے اندرونی اختلافات نے زور پکڑ کر ساری فضا کو سخت مسموم کر رکھا تھا۔مگر بہر حال یہ ظاہر ہے کہ اختلافی مسائل میں مولوی محمد علی صاحب کی تفسیر نے ایک دوسرا رنگ اختیار کرلیا۔قادیان میں متعدد پبلک عمارتوں کی تعمیر :۔جب ایک جماعت بنتی ہے تو اس کے رستہ میں ہر قسم کی ضروریات پیش آتی ہیں جو اسے پوری کرنی پڑتی ہیں۔چنانچہ حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں قادیان میں متعدد پبلک عمارتوں کا اضافہ ہوا۔مثلاً حضرت خلیفہ اول کے عہد میں قادیان کی جامع