سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 299 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 299

۲۹۹ خلافت کا نظام اور حضرت خلیفہ المسح اوّل کا عہد خلافت اُوپر کے ابواب میں ہم کی تعلیم اور احمدیت کی غرض و غایت کا ایک مختصر نقشہ ہدیہ ناظرین کر چکے ہیں۔یہ نقشہ حضرت مسیح موعود کے سوانح حیات کے معابعد درج کیا جانا ضروری تھا تا کہ حضرت مسیح موعود کے خدا داد مشن کی پوری پوری تصویر یکجا طور پر ناظرین کے سامنے آجائے۔اس کے بعد ہم پھر کے تاریخی پہلو کی طرف عود کر کے ان حالات کو بیان کرنا چاہتے ہیں جو حضرت مسیح موعود کی وفات کے بعد جماعت کو پیش آئے۔مگر اس سے پہلے نظام خلافت کے متعلق ایک مختصر نوٹ درج کرنا بے جانہ ہوگا۔خلافت کا نظام :۔قرآن شریف کی تعلیم اور سلسلہ رسالت کی تاریخ کے مطالعہ سے پتہ لگتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ دنیا میں کسی رسول اور نبی کو بھیجتا ہے تو اس سے اس کی غرض یہ نہیں ہوتی کہ ایک آدمی دنیا میں آئے اور ایک آواز دے کر واپس چلا جاوے۔بلکہ ہر نبی اور رسول کے وقت خدا تعالیٰ کا منشاء یہ ہوتا ہے کہ دنیا میں ایک تغیر اور انقلاب پیدا کرے جس کے لئے ظاہری اسباب کے ماتحت ایک لمبے نظام اور مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے اور چونکہ ایک آدمی کی عمر بہر حال محدود ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ نبی کے ہاتھ سے صرف تخم ریزی کا کام لیتا ہے اور اس تخم ریزی کو انجام تک پہنچانے کے لئے نبی کی وفات کے بعد اس کی جماعت میں سے قابل اور اہل لوگوں میں یکے بعد دیگرے اس کے جانشین بنا کر اس کے کام کی تکمیل فرماتا ہے۔یہ جانشین اسلامی اصطلاح میں خلیفہ کہلاتے ہیں کیونکہ خلیفہ کے معنے پیچھے آنے والے اور دوسرے کی جگہ قائم مقام بننے والے کے ہیں۔یہ سلسلہ خلافت قدیم زمانہ سے ہر نبی کے بعد ہوتا چلا آیا ہے چنانچہ حضرت موسی" کے بعد یوشع خلیفہ ہوئے اور حضرت عیسی کے بعد پطرس خلیفہ ہوئے اور آنحضرت ﷺ کے بعد حضرت ابوبکر خلیفہ ہوئے بلکہ آنحضرت ﷺ کے بعد یہ سلسلہ خلافت تمام سابقہ نبیوں کی نسبت زیادہ شان اور زیادہ