سلسلہ احمدیہ — Page 292
۲۹۲ تو انہوں نے حضرت مسیح موعود کی تعلیم کے ماتحت اس کمزوری کو نہ صرف یکدم ترک کر دیا بلکہ جن جن لوگوں سے رشوت لی تھی ان سب کے گھروں پر جا جا کر ان سے معافی مانگی اور رشوت کا سارا روپیہ واپس کیا اور جب اپنی پونجی ختم ہو گئی تو جدی جائیداد فروخت کر کے حساب بے باق کیا۔ایک اور صاحب ضلع گجرات کے تھے جواب فوت ہو چکے ہیں۔یہ صاحب احمدیت سے پہلے اپنے علاقہ کے مشہور ڈاکو اور رہزن تھے اور جتھوں میں ہو کر نہایت دلیرانہ وارداتیں کیا کرتے تھے لیکن احمدیت کے بعد ان میں ایسا تغیر آیا کہ میں نے خود انہیں ایسی حالت میں دیکھا ہے کہ ان کی زبان پر اکثر خدا اور اس کے رسول کا ذکر رہتا تھا اور اپنا اکثر وقت عبادت اور خدمت دین میں گزارتے تھے۔مالی قربانی کا یہ حال ہے کہ جن لوگوں کو احمدیت میں داخل ہونے سے پہلے خدا کی راہ میں ایک پیسہ تک خرچ کرنا دو بھر تھا اب وہ اس رستہ میں پانی کی طرح روپیہ بہاتے ہیں اور اس قربانی میں انہیں دلی خوشی محسوس ہوتی ہے۔جماعت کے اکثر افراد پابندی کے ساتھ اپنی کل آمد کا دسواں حصہ خدا کے رستے میں دیتے ہیں اور بہت ہیں جو پانچواں یا تیسرا حصہ دیتے ہیں اور بعض یقیناً اس سے بھی زیادہ دیتے ہیں۔یہ باتیں محض قیاسی نہیں بلکہ جماعت کے چندوں کے رجسٹرات سے ان کا ثبوت مل سکتا ہے اور میں یہ بات خوش عقیدگی سے نہیں کہتا بلکہ ذاتی علم کی بنا پر ایک حقیقت بیان کرتا ہوں کہ جماعت کا کثیر حصہ ایسا ہے جس کے لئے وہ مال جو وہ دین کے رستے میں خرچ کرتا ہے اس مال سے بہت زیادہ خوشی کا موجب ہوتا ہے جو وہ اپنے لئے رکھتا ہے۔یہی حال جان کی قربانی کا ہے۔جماعت احمدیہ کا ہر خلص فرودین کی خاطر اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھے ہوئے ہے اور اس وقت کے لئے بے تاب ہے جب اسے دین کے رستے میں خدا کی آواز پر لبیک کہنا پڑے۔ہندوستان میں تو ملکی حالات کی وجہ سے ایسے موقعے نہیں پیش آئے لیکن بعض بیرونی حکومتوں میں کئی احمدی اپنے عقائد کی وجہ سے جان سے مار دیئے گئے ہیں اور انہوں نے اس قربانی کو خوشی کے ساتھ قبول کیا۔کابل کی حکومت میں جماعت کے دو معزز افراد کو احمدیت کی وجہ سے زمین