سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 19 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 19

۱۹ الْقُرْآنَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّا أَنْذِرَ آبَانُهُمْ - وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلَ الْمُجْرِمِينَ - قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ وَأَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ - ا و یعنی اے احمد ! اللہ نے تجھے برکت دی ہے پس جو وار تو نے دین کی خدمت میں چلایا ہے وہ تو نے نہیں چلایا بلکہ دراصل خدا نے چلایا ہے۔خدا نے تجھے قرآن کا علم عطا کیا ہے تا کہ تو ان لوگوں کو ہوشیار کرے جن کے باپ دادے ہوشیار نہیں کئے گئے اور تا مجرموں کا راستہ واضح ہو جاوے۔لوگوں سے کہہ دے کہ 66 مجھے خدا کی طرف سے مامور کیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے ایمان لاتا ہوں۔“ آپ کا یہ الہام پہلا الہام نہیں تھا بلکہ جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے الہامات کا سلسلہ آپ کے والد ماجد کی زندگی میں ہی شروع ہو چکا تھا۔مگر یہ وہ پہلا الہام تھا جو ماموریت کے متعلق آپ پر نازل ہوا اور جس نے آپ کی زندگی میں ایک نئے دور کا آغاز کر دیا۔لیکن چونکہ ابھی تک آپ کو بیعت لینے کا حکم نہیں ہوا تھا اس لئے اس کے بعد بھی آپ کچھ عرصہ تک عام رنگ میں اسلام کی خدمت میں مصروف رہے اور کسی با قاعدہ جماعت کی بنیاد نہیں رکھی۔البتہ آپ نے یہ کیا کہ اپنے ماموریت کے دعوی کو جسے آپ نے مجددیت کا آغاز قرار دیا ایک اشتہار کے ذریعہ نہ صرف ہندوستان کے مختلف حصوں میں بلکہ اس اشتہار کو انگریزی میں ترجمہ کرا کے دوسرے ممالک میں بھی کثرت کے ساتھ پہنچا دیا اور دنیا بھر کے بادشا ہوں، وزیروں اور مذہبی لیڈروں کو یہ اشتہار بھجوایا۔اور جملہ مذاہب والوں کو دعوت دی کہ اگر انہیں اسلام کی حقانیت یا آنحضرت ﷺ کی صداقت میں کوئی شبہ ہو یا الہام یا ہستی باری تعالیٰ کے متعلق کوئی اعتراض ہو یا قرآن کی فضیلت کے متعلق کوئی بات دل میں کھٹکتی ہو تو وہ آپ کے پاس آ کر یا خط و کتابت کے ذریعہ تسلی کرلیں کہ مجددیت کے دعوئی سے آپ کی مراد یہ تھی کہ اسلام میں جو یہ وعدہ دیا گیا ہے کہ ہر صدی کے سر پر ایک مجدد یعنی مصلح مبعوث ہوا کرے گا جس کے ذریعہ لے براہین احمدیہ ہر چہار حصص روحانی خزائن جلد اصفحه ۲۶۵ حاشیه در حاشیه نمبرا دیکھو اشتہار منسلکہ براہین احمدیہ حصہ چہارم مطبوعه ۱۸۸۴ء