سلسلہ احمدیہ — Page 263
۲۶۳ میں گو دور دراز زمانہ کی وجہ سے کچھ تبدیل تغییر ہوگئی ہو یا ان کے معنے خلاف حقیقت سمجھے گئے ہوں مگر دراصل وہ کتا بیں من جانب اللہ اور عزت اور تعظیم کے لائق ہیں۔“ سچا مذہب اسی دنیا میں پھل دیتا ہے:۔ایک اور لطیف انکشاف حضرت مسیح موعود نے یہ فرمایا کہ بچے مذہب کی یہ علامت ہے کہ وہ اپنے متبعین کو صرف آئندہ کے وعدہ پر نہیں رکھتا بلکہ اسی زندگی میں ایمان کے شیریں اثمار چکھا دیتا ہے۔یہ اصول قرآن شریف میں موجود تھا جیسا کہ فرمایا:۔وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَان لے د یعنی جو شخص خدا کا تقویٰ اختیار کر کے روز جزا کو یا د رکھتا ہے اسے دو جنتیں ملیں گی ایک آخرت میں اور ایک اسی دنیا میں یعنی اسی دنیا سے اس کے لئے جنتی زندگی کا آغاز ہو جائے گا اور وہ اسی زندگی میں خدا کے قرب کی ٹھنڈک کو محسوس کرنے لگے گا۔“ پھر فرماتا ہے:۔اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَاَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ یعنی جو لوگ دل سے خدائے واحد کو اپنا رب مان لیتے ہیں اور پھر اس عقیدہ پر پختہ طور پر جم جاتے ہیں ان پر اسی دنیا میں خدا کے فرشتے نازل ہو کر انہیں تسلی دیتے ہیں کہ تم کسی قسم کا خوف نہ کرو اور نہ کوئی غم کرو اور اس جنت کی اسی دنیا میں بشارت حاصل کرو جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے۔“ مگر باوجود قرآن شریف میں ان آیات کو پڑھتے ہوئے مسلمان ان کے مفہوم سے بالکل نے چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۸۲٬۳۸۱ ۲ الرحمن: ۴۷ تم السجدہ: ۳۱