سلسلہ احمدیہ — Page 262
۲۶۲ طرف منسوب کی جاتی ہے کیونکہ یہ تعلیم دو لحاظ سے ہمارے لئے قابل عمل نہیں۔اول اس لئے کہ یہ تعلیم مرور زمانہ سے اپنی اصل حقیقت اور اصل صورت سے منحرف ہو چکی ہے دوسرے اس لئے کہ قرآن شریف کے نزول کے بعد جو سارے ملکوں اور ساری قوموں اور سارے زمانوں کے لئے ہے تمام سابقہ شریعتیں جو زمانی اور مکانی اور قومی حدود میں مقید تھیں منسوخ ہو چکی ہیں۔پس آپ نے فرمایا کہ ہم اس وقت عملاً صرف قرآنی شریعت کو مانیں گے مگر ویسے اصولاً ہم تمام قوموں کے رسولوں، رشیوں اور او تاروں اور مصلحوں کو سچا سمجھتے ہیں اور ان کی اسی طرح عزت کرتے ہیں جس طرح ایک سچے رسول کی کرنی چاہیئے چنانچہ آپ فرماتے ہیں:۔یہ اصول نہایت پیارا اور امن بخش اور صلح کاری کی بنیاد ڈالنے والا اور اخلاقی حالتوں کو مدددینے والا ہے کہ ہم ان تمام نبیوں کو سچا سمجھ لیں جو دنیا میں آئے خواہ ہند میں ظاہر ہوئے یا فارس میں یا چین میں یا کسی اور ملک میں اور خدا نے کروڑہا دلوں میں ان کی عزت اور عظمت بٹھا دی اور ان کے مذہب کی جڑ قائم کر دی اور کئی صدیوں تک وہ مذہب چلا آیا۔یہی اصول ہے جو قرآن نے ہمیں سکھلایا۔اسی اصول کے لحاظ سے ہم ہر ایک مذہب کے پیشوا کو جن کی سوانح اس تعریف کے نیچے گئی ہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں گو وہ ہندوؤں کے مذہب کے پیشوا ہوں یا فارسیوں کے مذہب کے یا چینیوں کے مذہب کے یا یہودیوں کے مذہب کے یا عیسائیوں کے مذہب کے۔پھر فرماتے ہیں:۔اسی عظیم الشان نبی نے ہمیں سکھایا ہے کہ جن جن نبیوں اور رسولوں کو دنیا کی قو میں مانتی چلی آئی ہیں اور خدا نے عظمت اور قبولیت ان کی دنیا کے بعض حصوں میں پھیلا دی ہے وہ درحقیقت خدا کی طرف سے ہیں اور ان کی آسمانی کتابوں ا تحفہ قیصریه ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۲۵۹