سلسلہ احمدیہ — Page 256
۲۵۶ خدا کو دینا چاہئے آپ نے لکھا کہ اسلام اسباب کے اختیار کرنے سے نہیں روکتا بلکہ علم دیتا ہے کہ کسی مقصد کے حصول کے لئے جو اسباب خدا کی طرف سے مقرر ہیں انہیں استعمال کرو کیونکہ وہ بھی خدا کے پیدا کردہ ذرائع ہیں مگر اسلام ان اسباب پر تکیہ کرنے سے اور انہیں کامیابی کا آخری ذریعہ قرار دینے سے منع کرتا ہے بلکہ ہدایت دیتا ہے کہ اصل بھروسہ صرف خدا پر رکھو جس نے یہ سارے اسباب پیدا کئے ہیں اور جو اس دنیا کی آخری علت العلل ہے۔چنانچہ آپ اپنی جماعت کو مخاطب کر کے احدا فرماتے ہیں:۔” خدا ایک پیارا خزانہ ہے اس کی قدر کرو کہ وہ تمہارے ہر اک قدم میں تمہارا مددگار ہے تم بغیر اس کے کچھ بھی نہیں اور نہ تمہارے اسباب اور تدبیریں کچھ چیز ہیں۔غیر قوموں کی تقلید نہ کرو کہ جو بکلی اسباب پر گر گئی ہیں اور جیسے سانپ مٹی کھاتا ہے انہوں نے سفلی اسباب کی مٹی کھائی میں تمہیں حد اعتدال تک رعایت اسباب سے منع نہیں کرتا بلکہ اس سے منع کرتا ہوں کہ تم غیر قوموں کی طرح نرے اسباب کے بندے ہو جاؤ اور اس خدا کو فراموش کر دو جو اسباب کو بھی وہی مہیا کرتا ہے۔۔خدا تمہاری آنکھیں کھولے تا تمہیں معلوم ہو کہ تمہارا خدا تمہاری تمام تدابیر کا شہتیر ہے۔اگر شہتیر گر جائے تو کیا کڑیاں اپنی چھت پر قائم رہ سکتی ہیں۔ملائکۃ اللہ کی حقیقت : چوتھا عقیدہ جو آپ نے دنیا کے سامنے پیش کیا وہ مانگتہ اللہ کی تشریح کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔فرشتوں کے وجود کو قریباً ہر مذہب وملت نے مانا ہے اس لئے ہمیں اس جگہ ان کی ہستی کی بحث میں جانے کی ضرورت نہیں۔صرف اس قدر بتا نا کافی ہے کہ فرشتوں کے متعلق یہ ایک عام عقیدہ ہو رہا تھا کہ فرشتے کوئی خاص قسم کی عجیب و غریب مخلوق ہے جو خدا اور انسان کے درمیان واسطہ کا کام دیتی ہے۔حضرت مسیح موعود نے اس بارے میں تشریح فرمائی کہ بے شک فرشتے کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۲ ،۲۳