سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 252 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 252

۲۵۲ عرفان پیدا کر نے اور اس کے نشانات کو دیکھنے کا رستہ بالکل مسدود ہو جاتا ہے اور انسان اپنے خالق و مالک کے متعلق گو یا بالکل تاریکی میں رہ جاتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ چونکہ لطیف اور غیر محدود ہے اس لئے وہ نظر نہیں آ سکتا اب اگر اس کے کلام کا بھی دروازہ بند کر دیا جاوے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ بندے اور خدا کے درمیان تمام علائق منقطع ہو جائیں اور کوئی جوڑ نے والی کڑی درمیان میں باقی نہ رہے چنانچہ آپ فرماتے ہیں:۔بن دیکھے کس طرح کسی مد رخ پر آئے دل کیونکر کوئی خیالی صنم سے لگائے دل دیدار گر نہیں ہے تو گفتار ہی سہی حسن و جمال یار کے آثار ہی سہی آپ نے بار بار فرمایا کہ کلام الہی تو ایک ایسی چیز ہے کہ جو مذ ہب اس کا دروازہ بند کرتا ہے وہ یقینا زندہ مذہب کہلانے کا حقدار نہیں بلکہ وہ ایک مردہ مذہب ہے جس میں زندگی کی کوئی بھی روح نہیں کیونکہ ایسا مذہب بندے اور خدا کے درمیان ایک ایسی خلیج حائل کر دیتا ہے کہ جس کے ہوتے ہوئے بندہ خدا تک نہیں پہنچ سکتا اور خدا کا وجود محض ایک خشک فلسفیانہ خیال رہ جاتا ہے چنانچہ حضرت مسیح موعود دفرماتے ہیں:۔ہے غضب کہتے ہیں اب وحی خدا مفقود ہے اب قیامت تک ہے اس امت کا قصوں پر مدار گوہر وحی خدا کیوں توڑتا ہے ہوش کر اک یہی دیں کے لئے ہے جائے عز و افتخار یہ وہ گل ہے جس کا ثانی باغ میں کوئی نہیں یہ وہ خوشبو ہے کہ قرباں اس پہ ہو مشک تار ہے خدا دانی کا آلہ بھی یہی اسلام میں محض قصوں سے نہ ہو کوئی بشر طوفاں سے پار اور دوسری جگہ فرماتے ہیں:۔جبکہ خدا تعالیٰ کا جسمانی قانون قدرت ہمارے لئے اب بھی وہی موجود ہے جو پہلے تھا تو پھر روحانی قانون قدرت اس زمانہ میں کیوں بدل گیا ؟ نہیں ہرگز نہیں بدلا۔پس وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ وحی الہی پر آئندہ کے لئے مہر لگ گئی