سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 206 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 206

ہے کہ چپکے سے اپنی کو منا کر گھر واپس لے جاؤ اور جھگڑے کولمبانہ کرو۔“ چنانچہ ان صاحب نے ایسا ہی کیا اور گھر کی ایک وقتی ناراضگی پھر امن اور خوشی کی صورت میں بدل گئی۔لطیفہ اس بات میں یہ تھا کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے جو یہ کہا کہ آجکل ملکہ کا راج ہے اس سے ان کی یہ مراد تھی کہ جہاں آجکل حکومت انگریزی کی باگ ڈور ایک ملکہ کے ہاتھ میں ہے وہاں جماعت احمدیہ کی روحانی بادشاہت میں بھی جہاں تک اس قسم کے خانگی امور کا تعلق ہے حضرت مسیح موعود اپنے گھر والوں کی بات کو زیادہ وزن دیتے ہیں اور عورتوں کی ہمدردی اور ان کے حقوق کا آپ کو خاص خیال رہتا ہے۔دوسری طرف حضرت مسیح موعود کے احسان اور شفقت کا یہ نتیجہ نہیں تھا کہ ہماری والدہ صاحبہ کے دل میں حضرت مسیح موعود کے ادب و احترام یا آپ کی قدر و منزلت میں کوئی کمی آجاتی بلکہ حضرت مسیح موعود کے لئے ان کا رویہ نہایت درجہ مخلصانہ اور نہایت درجہ مودبانہ تھا۔چنانچہ جب حضرت مسیح موعود نے خدا سے علم پا کر اپنے لئے ایک نکاح ثانی کی پیشگوئی فرمائی جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے تو گویہ پیشگوئی بعض شرائط کے ساتھ مشروط تھی مگر پھر بھی چونکہ اس وقت اس کا ظاہر پہلو یہی سمجھا جاتا تھا کہ یہ ایک نکاح کی پیشگوئی ہے اور لڑکی کے والدین اور عزیز واقارب حضرت مسیح موعود کے سخت خلاف تھے تو ایسے حالات میں حضرت والدہ صاحبہ نے کئی دفعہ خدا کے حضور رو رو کر دعائیں کیں کہ ”خدا یا تو اپنے مسیح کی سچائی کو ثابت کر اور اس رشتہ کے لئے خود اپنی طرف سے سامان مہیا کر دے۔“ اور جب حضرت مسیح موعود نے ان سے دریافت کیا کہ اس رشتہ کے ہو جانے سے تو تم پر سوکن آتی ہے پھر تم ایسی دعا کس طرح کرتی ہو؟ تو حضرت والدہ صاحبہ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ ” کچھ بھی ہو میری خوشی اسی میں ہے کہ آپ کے منہ سے نکلی ہوئی بات پوری ہو جائے۔‘ اس چھوٹے سے گھر یلو واقعہ سے اس بات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کے بے نظیر حسن سلوک اور عدیم المثال شفقت نے آپ کے اہل خانہ پر کس قدر غیر معمولی اثر پیدا کیا تھا۔الغرض آپ کا اپنے اہل وعیال کے ساتھ ایسا اعلیٰ سلوک تھا کہ جس کی نظیر تلاش کرنا بے سود ہے۔