سلسلہ احمدیہ — Page 161
۱۶۱ اور صیغہ جات کا انتظام جو پہلے متفرق انجمنوں کے سپر د تھا اب اس واحد مرکزی انجمن کے سپر د کر دیا گیا۔مگر انجمن کے سپرد کردہ امور میں بھی ہر معاملہ میں آخری حکم خود حضرت مسیح موعود کے ہاتھ میں رہاہے علاوہ ازیں لنگر خانہ اور مہمان خانہ کا انتظام براہ راست آپ کے پاس رہا کیونکہ آپ کو اندیشہ تھا کہ اسے انجمن کے سپرد کر دینے سے کہیں مہمانوں کے لئے تکلیف کا سامنا نہ ہو اور آپ یہ بھی چاہتے تھے کہ تربیت کے لحاظ سے مہمانوں کا براہ راست آپ کے ساتھ تعلق رہے۔صدر انجمن احمدیہ کے قیام کی تجویز ایک عام تنظیمی تجویز تھی جو سلسلہ کے بڑھتے ہوئے کاموں کی وجہ سے سہولت کے خیال سے اختیار کی گئی اور حضرت مسیح موعود کی زندگی میں اس انجمن کی اس سے زیادہ حیثیت نہیں تھی کہ وہ آپ کے ماتحت اور آپ کی امداد کے لئے بعض کا موں کے چلانے کے واسطے ایک انجمن ہے اور کسی کو یہ وہم و گمان بھی نہ تھا کہ یہ انجمن جماعت کی افسر اور اس کی پالیسی کی نگران اور اس کی مہم کو چلانے والی ہے۔اور جماعت کے بہت سے لوگ اس سے واقف تک نہیں تھے اور جماعت سے باہر تو اس کے نام سے بھی اکثر لوگ نا آشنا تھے اور جب ۱۹۰۸ء میں حضرت مسیح موعود کی وفات ہوئی تو اس وقت بھی کسی کو یہ خیال تک نہیں گیا کہ یہ انجمن میں خلافت کی قائم مقام ہے بلکہ خود انجمن نے اور انجمن کے ممبروں نے حضرت مولوی نورالدین صاحب کو خلیفہ منتخب کرنے میں حصہ لیا اور ساری جماعت نے متحدہ طور پر حضرت خلیفہ اول کی خلافت کو مطابق وصیت حضرت مسیح موعود بر حق تسلیم کر کے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔لیکن اس کے کچھ عرصہ بعد حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں ہی ایک پارٹی ایسی پیدا ہو گئی جس نے مغرب کے جمہوری طریق حکومت سے متاثر ہو کر اور شخصی نظام کو اپنی طبیعت کے خلاف پا کر اس خیال کو اٹھایا کہ اصل چیز انجمن ہی ہے اور وہی جماعت کی حاکم اعلیٰ ہے اور خلیفہ کی حیثیت زیادہ سے زیادہ ایک پریزیڈنٹ کی ہے جو انجمن کے ماتحت ہے۔یہ خیال ایک مضحکہ خیز خیال تھا کیونکہ : اوّل۔وہ حضرت مسیح موعود کی وصیت کے خلاف تھا جس کا ایک اقتباس اوپر گزر چکا ہے۔لے دیکھو تو اعد صدرانجمن احمد یہ مطبوعہ الحکم مورخه ار فروری ۱۹۰۶ صفحه ۷،۶