سلسلہ احمدیہ — Page 94
۹۴ آپ اس کے لئے اپنے دشمنوں کی پیش دستی کی وجہ سے مجبور تھے لیکن موجودہ زمانہ میں یہ حالات نہیں ہیں بلکہ ملک میں ایک پر امن اور متظام حکومت قائم ہے۔جس نے ہر قسم کی مذہبی آزادی دے رکھی ہے پس آجکل دین کے لئے تلوار نکالنے کا خیال ایک بالکل باطل اور خلاف اسلام خیال ہے اور آپ نے لکھا کہ یہ جو آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ مسیح موعود جزیہ اور جنگ کو موقوف کر دے گا تو اس ابھی یہی مطلب ہے کہ اس کا زمانہ امن کا زمانہ ہو گا اس لئے تلوار کی حاجت نہیں رہے گی اور دلائل اور براہین کے زور سے اسلام کی تبلیغ ہوگی چنانچہ آپ فرماتے ہیں:۔حدیثوں میں پہلے سے لکھا گیا تھا کہ جب مسیح آئے گا تو دین کے لئے لڑنا حرام کیا جائے گا۔سو آج سے دین کے لئے لڑنا حرام کیا گیا۔اب اس کے بعد جو دین کے لئے تلوار اٹھاتا ہے اور غازی نام رکھا کر کافروں کو قتل کرتا ہے وہ خدا اور اس کے رسول کا نافرمان ہے۔۔۔میرے ظہور کے بعد تلوار کا کوئی جہاد نہیں۔ہماری طرف سے امان اور صلح کاری کا سفید جھنڈا بلند کیا گیا ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف دعوت کرنے کی ایک راہ نہیں۔پس جس راہ پر نادان لوگ اعتراض کر چکے ہیں خدا تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت نہیں چاہتی کہ اسی راہ کو پھر اختیار کیا جائے۔لہذا مسیح موعود اپنی فوج کو اس ممنوع مقام سے پیچھے ہٹ جانے کا حکم دیتا ہے۔جو بدی کا بدی کے ساتھ مقابلہ کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔اپنے تئیں شریر کے حملہ سے بچاؤ مگر خود شریرانہ مقابلہ مت کرو۔جماعت کا نام احمدی رکھا جانا:۔اب ۱۹۰۱ء کا سال شروع ہونے والا تھا جبکہ ملک میں حکومت کی طرف سے مردم شماری ہونے والی تھی۔جماعت کے لئے یہ پہلی مردم شماری تھی اور ضروری تھا کہ جماعت کا کوئی نام مقرر کر دیا جاوے جو اسے دوسرے اسلامی فرقوں سے ممتاز کر دے۔اس پر آپ نے ۱۹۰۰ء کے آخر میں ایک اشتہار کے ذریعہ اعلان فرمایا کہ آئندہ آپ کی قائم کردہ جماعت کا نام اشتہار ۲۸ رمئی ۱۹۰۰ ء - مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۴۰۱ و ۴۰۸ جدید ایڈیشن